Al-Risala · September 2005 · page

قیادت کا مسئلہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵

قیادت کا مسئلہ

قائد خدا پیدا کرتا ہے۔ مگر قائد کو قائد ماننا انسان کا کام ہے۔ خدا کے تخلیقی نظام کے مطابق، کسی گروہ کے لیے کوئی ایسا وقت نہیں آ سکتا جب کہ اس کے درمیان قائدانہ اوصاف والی شخصیت موجود نہ ہو۔ مگر کوئی حقیقی قائد اپنا قائدانہ رول صرف اس وقت ادا کر سکتا ہے جب کہ اس کی قوم اس کو اپنا قائد مانے اور اس کی اطاعت کرے۔

اس معاملے میں سب سے زیادہ نازک (crucial) بات یہ ہے کہ حقیقی قائد کو اکثر کوئی غیر مقبول فیصلہ (unpopular decision) لینا پڑتا ہے۔ یعنی ایک ایسا فیصلہ جو عوامی مزاج کے مطابق نہ ہو۔ مگر صورت حال کے مطابق اس کے فیصلہ سے قوم کا نیا مستقبل بننے والا ہو۔ یہ صورت حال مذہبی قائد کے ساتھ بھی پیش آتی ہے اور غیر مذہبی قائد کے ساتھ بھی۔

مذہبی اعتبار سے اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر فریق ثانی سے یک طرفہ صلح کا معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ آپ کے ساتھیوں کے لیے سخت نا گوار تھا۔ حتی کہ عمر فاروق نے اس کو دنیئہ (ذلیل) معاہدہ قرار دیا۔ لوگ اس معاہدہ کی تاریخی اہمیت صرف اس وقت سمجھ سکے جب کہ دو سال بعد اس کا شان دار نتیجہ سامنے آیا۔ اسی طرح غیر مذہبی دائرہ میں اسی کی ایک مثال فرانس کے ایک سابق صدر جنرل ڈیگال کی ہے۔ افریقہ کے فرانسیسی مقبوضات کو آزاد کرنے کے بعد وہ فرانس کے عوام میں بے حد غیر مقبول ہو گئے۔ مگر آج تمام لوگ اس فیصلے کو ایک ایسا فیصلہ قرار دیتے ہیں جو گہری دانش مندی پر مبنی تھا۔

یہی معاملہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی قائد نہیں۔ مگر یہ بات خدا کے تخلیقی نقشہ کو رد کرنے کے ہم معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا آج بھی مسلمانوں میں قائدانہ اوصاف والے افراد پیدا کر رہا ہے مگر موجودہ مسلمان اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کو قبول نہیں کر پاتے۔ قائد بلاشبہ موجود ہیں مگر مسلمانوں کی عدم قبولیت کی بنا پر وہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues

Printed page