Al-Risala · September 2005 · page

کلمۂ معرفت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵

کلمۂ معرفت

صحیح البخاری میں روایات کی کل تعداد (مکررات سمیت) ۷۵۶۳ ہے۔ اس مجموعہ کی آخری حدیث یہ ہے : کلمتان حبيبتان إلى الرحمن، خفيفتان على اللسان، ثقيلتان الميزان : سُبحان الله وبحمدہ، سُبحان الله العظيم ۔ (دو کلمے رحمٰن کو بہت محبوب ہیں، وہ زبان پر ہلکے ہیں مگر وہ میزان میں بھاری ہیں۔ وہ دو کلمے یہ ہیں : سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سبحان اللہ و بحمدہ، سبحان اللہ العظیم کے الفاظ میں پُر اسرار خواص چھپے ہوئے ہیں اور ان الفاظ کو زبان سے ادا کرتے ہی طلسماتی طور پر ان کے یہ خواص ظاہر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اس حدیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم کے الفاظ میں پر اسرار طور پر وزن چھپا ہوا ہے اور قیامت کے ترازو میں رکھتے ہی وہ پلڑے کو جھکا دیں گے۔ ترازو کی تَول میں ان الفاظ کا بھاری ہونا دراصل تمثیل کی زبان میں ہے، نہ کہ حقیقت کی زبان میں۔ اس سے مراد اس کلمہ کا معنوی وزن ہے، نہ کہ مادی وزن۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے تمام اعمال میں سب سے بڑا عمل خدا کی معرفت ہے۔ یعنی خداوند عالم کو شعوری طور پر دریافت کرنا اور اس دریافت کا انسان کی پوری شخصیت میں اُتر جانا۔ سبحان الله وبحمدہ، سبحان الله العظیم دراصل معرفتِ خداوندی کے کلمے ہیں۔ جب ایک انسان خدا کی ذات کو اس حیثیت سے دریافت کرتا ہے کہ وہ ہمہ تن پاک ہے، وہی ہر قسم کی تعریف اور شکر کا مستحق ہے۔ وہ تمام عظمتوں کا تنہا مالک ہے۔ یہ دریافت جب شدتِ یقین کے ساتھ کسی انسان کی زبان پر ایک شعوری اظہار کے طور پر جاری ہو جائے تو وہ کائنات کا سب سے بڑا عمل ہوتا ہے۔ وہ اتنا عظیم ہوتا ہے کہ ہر دوسری چیز اس کے مقابلہ میں چھوٹی قرار پائے۔ معرفت سب سے بڑی عبادت ہے۔ یہ شعور کی سطح پر خدا کو پالینا ہے۔ معرفت اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی آدمی کی داخلی شخصیت کے اندر وجود میں آنے والا ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ جب کسی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues

Printed page