قیادت کا مسئلہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵
پر مسلمانوں کو وہ رہنمائی دیں جو حقیقت کے اعتبار سے سچی رہنمائی ہو۔ اس قسم کی رہنمائی ابتدائی طور پر انہیں غیر مقبول بنا دے گی۔ مگر یہ بھی یقینی ہے کہ مسلمانوں کی اگلی نسلیں اس کو سمجھیں گی اور دل سے اُس کا اعتراف کریں گی۔
اصل یہ ہے کہ قیادت کا مسئلہ پچاس فیصد قائد سے تعلق رکھتا ہے اور پچاس فیصد زیر قیادت قوم سے۔ قائد اگر اعلیٰ صلاحیت کا حامل ہو تب بھی قوم کے اندر صحیح مزاج ہونا چاہیے۔ اگر قوم کے اندر صحیح مزاج نہ ہو تو اعلیٰ صلاحیت کے باوجود قوم اپنے قائد کو رد کر دے گی۔ قائد اپنے منصوبہ کو مکمل کرنے میں ناکام رہے گا۔
موجودہ زمانہ کی مسلم دنیا میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ افغانستان میں امان اللہ خاں، پاکستان میں محمد ایوب خاں اور ہندوستان میں ابو الکلام آزاد اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ یہ تینوں افراد مسلّمہ طور پر اعلیٰ قیادتی اوصاف کے حامل تھے۔ مگر اُن کی قوم نے ان کو قبول نہیں کیا۔ چنانچہ یہ تینوں قائد اپنی قیادتی خدمت انجام دیے بغیر اس دنیا سے چلے گئے۔
اس معاملہ میں اصل مسئلہ قائد کی تعمیر کا نہیں ہے بلکہ قوم کے مزاج کی تعمیر کا ہے۔ قائد تو خود فطری قانون کے تحت ہمیشہ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یہ قوم کے مزاج پر منحصر ہوتا ہے کہ قائد کو عمل کا موقع ملے گا یا نہیں۔ اس لیے صالح قیادت کی تشکیل کا آغاز قوم کے اندر صالح مزاج کی تشکیل سے ہونا چاہیے، نہ کہ اس شکایت سے کہ قوم کے اندر صالح قائد موجود نہیں۔ جس معاشرہ میں صالح مزاج موجود ہو وہاں لازماً صالح قائد بھی موجود ہوگا۔ اور جس معاشرہ میں صالح قائد موجود نہ ہو تو مزید تحقیق کے بغیر یہ مان لیجیے کہ قوم کے اندر صالح مزاج موجود نہیں ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues