Al-Risala · September 2005 · page

تاریخ گواہ ہے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵

تاریخ گواہ ہے

قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۳ میں زندگی کی حقیقت بتائی گئی ہے۔ اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: زمانہ کی قسم، بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ ہے۔ سِوا اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور انہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی (العصر) قرآن کی اس سورہ میں قسم سے مراد گواہی ہے اور زمانہ سے مراد تاریخ۔ یعنی انسانی تاریخ گواه ہے کہ اس دنیا میں بیشتر انسانوں کا کیس ناکامی کا کیس ہے۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہیں جو دنیا کی زندگی میں ایمان اور عمل صالح کا ثبوت دیں اور جو لوگوں کے درمیان اس طرح رہیں کہ وہ انہیں حق کا پیغام پہنچارہے ہوں اور انہیں صبر کی تلقین کررہے ہوں۔

اصل یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی لذت حیوان (pleasure-seeking animal) ہے۔ یہ انسان کی استثنائی صفت ہے۔ ساری کائنات میں کوئی بھی دوسری معلوم مخلوق نہیں جو اپنے اندر لذت اور مسرت کی طلب لئے ہوئے ہو۔

اسی فطری مزاج کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے وہ اپنی ساری کوشش اس میں لگا دیتا ہے کہ وہ اپنی خواہش کے مطابق اپنے لیے خوشیوں کی ایک دنیا بنا سکے مگر تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کی کوشش مکمل بھی نہیں ہوپاتی، یہاں تک کہ اس پر موت آجاتی ہے اور وہ اچانک اس میدان عمل سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ اس عمومی ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی طلب یا اس کی خواہش لامحدود ہے جبکہ موجودہ دنیا ایک محدود دنیا ہے۔ طلب اور مقام طلب کے درمیان یہی وہ تضاد ہے جس کی بنا پر کوئی بھی شخص موت سے پہلے اپنی مطلوب دنیا کی تعمیر نہیں کر پاتا۔ مذکورہ آیت میں ایمان سے مراد اسی حقیقت کی دریافت ہے اور عمل صالح سے مراد اس دریافت کے مطابق عمل کرنا۔ جو لوگ زندگی کی اس حقیقت کو جان لیں اور وہ اس کے مطابق اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues

Printed page