تاریخ گواہ ہے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۳۶
سرگرمیوں کا منصوبہ بنائیں وہ مذکورہ عموم سے مستثنیٰ لوگ ہیں۔ کیوں کہ وہ اس دریافت کی بنا پر یہ جان لیتے ہیں کہ موجودہ دنیا ان کے لیے اپنا مطلوب پانے کی جگہ نہیں۔ موجودہ دنیا جنت کا استحقاق ثابت کرنے کی جگہ ہے، وہ جنت کو عملاً پانے کی جگہ نہیں۔
سورہ کے آخری حصہ میں یہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ سچی دریافت ہمیشہ دعوت بن جاتی ہے۔ دریافت اور دعوت دونوں جُڑے ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ دعوت اپنی حقیقت کے اعتبار سے یک طرفہ پیغام رسانی کا عمل نہیں، وہ دو طرفہ نوعیت کی چیز ہے—وہ تعلیم بھی ہے اور اسی کے ساتھ تعلّم بھی۔ دریافت ہمیشہ اظہار چاہتی ہے۔ اظہار کی یہ اسپرٹ آدمی کو تنہا رہنے نہیں دیتی، وہ اس کو دوسروں کے ساتھ جوڑ دیتی ہے۔ اس طرح دعوت کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ آدمی کا دوسروں کے ساتھ ڈائیلاگ اور ڈسکشن شروع ہو جاتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ اس کا فکری تبادلہ (intellectual exchange) جاری رہتا ہے۔
اس اجتماعی عمل کے دو بنیادی نکتے ہوتے ہیں۔ ایک ہے، دریافت کی ہوئی سچائی کا دوسروں میں چرچا کرنا اور اسی کے ساتھ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوشگوار یوں پر صبر کرنا۔ حق کا ظہور ہمیشہ نزاع کا سبب بنتا ہے اور حق پرست آدمی کے لیے نزاع سے نپٹنے کا سب سے زیادہ موثر طریقہ یہ ہے کہ وہ اس کے مقابلہ میں صبر اور اعراض کی روش اختیار کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues