قصور اپنا نکل آیا
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۳۹
علم بلاشبہ تمام انسانی خوبیوں کی جڑ ہے۔ مگر اس سے مراد صرف وہ علم ہے جس کے ساتھ سنجیدگی موجود ہو۔ سنجیدہ عالم کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ایک قابل پیشین گوئی ردِ عمل (predictable reaction) کا ثبوت دے گا۔ مگر جس شخص کے پاس علم تو ہو لیکن اس کے پاس سنجیدگی نہ ہو تو اس کے بارے میں کوئی بھی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ سنجیدگی علم کو بامعنی بناتی ہے۔ اور جہاں سنجیدگی نہ ہو وہاں علم کے باوجود معنویت پائی نہیں جائے گی۔ سوال اگر کسی مسلمان نے اپنی بیوی کو غصے میں ٹیلی فون پر بول دیا کہ میں نے تجھے تین طلاق یعنی طلاق، طلاق اور طلاق دے دیا۔ اور بیوی نے اس کو قبول نہیں کیا اور گواہ بھی کوئی نہیں تھا۔ پھر بعد میں مرد کو غلطی کا احساس ہوا، اس نے توبہ کی۔ تو کیا پھر یہ دونوں دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں۔ جواب سے مطلع فرمائیں۔ (ایک قاری، الرساله)
جواب
مذکورہ مسلمان نے جو فعل کیا وہ میرے نزدیک طلاق نہیں تھا بلکہ سرکشی تھی۔ اس قسم کے واقعات پر طلاق کا واقع کرنا میرے نزدیک درست نہیں۔ البتہ ایسا شخص شریعت کی بے حرمتی کرنے اور شریعت کو کھلواڑ بنانے کا مجرم ہے۔ ایسا آدمی دراصل سزا کا مستحق ہے۔ اس کو میرے نزدیک ایک سو کوڑے مارے جانے چاہئیں مگر کوڑا مارنے کا کام کوئی فرد یا جماعت نہیں کر سکتی ہے۔ یہ کام ایک اسٹیٹ کے تحت قائم شدہ عدالت کے ذریعہ ہونا چاہیے۔
سوال
الرساله دسمبر 1995 میں آپ کا ایک سفر نامہ (بڑودہ کا سفر) پڑھا۔ اس کے صفحہ نمبر ۳۵ کے پیراگراف تین میں آپ نے ایک بات لکھی ختم نبوت کے بعد مسلمان مقامِ نبوت پر ہیں‘ اس سے صاف طور پر یہی معنی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ من حیث القوم مسلمان نبی ہیں اور ان کے اندر روحانی صلاحیت، یہاں تک کہ وحی کا نازل ہونا بھی ہے۔ یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے۔ آپ اس
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues