قصور اپنا نکل آیا
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۰
کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کریں۔ (نو شاد علی، گورکھپور)
جواب
" امت محمدی مقام نبوت پر ہے " اس کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدی ذمہ داری کے اعتبار سے مقام نبوت پر ہے۔ اس جملہ میں امت محمدی کی داعیانہ ذمہ داری کو بتایا گیا ہے نہ یہ کہ امت محمدی خود پیغمبرانہ صفات رکھتی ہے۔ یعنی امت محمدی خود پیغمبر نہیں مگر ختم نبوت کے بعد اس کو دنیا میں پیغمبر والا دعوتی کام انجام دینا ہے۔
اس بات کو قرآن و حدیث میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً حَجۃ الوداع کے خطبہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان اللہ بعثنی للناس كافة فادوا عنى۔ یعنی اللہ نے مجھ کو تمام دنیا کے لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، پس تم میری طرف سے لوگوں تک میرا پیغام پہنچا دو۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ المسلمون شهداء الله في الأرض (مسلمان زمین میں اللہ کے گواہ ہیں)۔ امت محمدی کی یہ حیثیت اس لیے ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوگئی مگر کارِ نبوت بدستور باقی ہے۔ اس لیے امت محمدی پر بیک وقت دو ذمہ داری ہے، ایک یہ کہ وہ اپنے آپ کو پیغمبر کی تعلیم کے مطابق بنائے۔ اور دوسرے یہ کہ پیغمبر کے بعد وہ پیغمبر کی تعلیمات کو نسل در نسل دوسروں تک پہنچاتی رہے۔ یہی دوگنا ذمہ داری ہے جس کی بنا پر امت محمدی کا ثواب زیادہ رکھا گیا ہے۔ مگر یہ ثواب محض پیغمبر سے انتساب کی بنا پر نہیں ہے۔ اس ثواب کے مستحق صرف وہ لوگ قرار پائیں گے جو فی الواقع مذکورہ دونوں قسم کی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔
سوال
ا۔ تبلیغی والے کہتے ہیں کہ ہمارے بڑوں کے ہاتھ پر بیعت کرو۔ میں نے کہا کہ میں نے قلمی بیعت مولا نا سے کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیعت نہیں۔ کیوں کہ اپنے مُربی کے ساتھ مہینے میں ایک بار ملاقات ضروری ہے۔ اس لیے یہ بیعت کیسے ہوسکتی ہے۔ کیا بیعت کرنا ضروری ہے۔ اگر ضروری ہے تو اس کا شرعی اصول کیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues