قصور اپنا نکل آیا
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۲
۲۔ میرے خلاف جو لوگ بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں اور بے اصل باتیں پھیلاتے ہیں، وہ صرف ہمارے اجر میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی باتوں کا جواب صرف یہ ہے کہ انہیں کوئی جواب نہ دیا جائے اور ان کے حق میں دعا کی جائے۔
۳۔ موزہ پر مسح کے بارے میں علماءِ عرب کا فتویٰ آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جس طرح چمڑے کے موزہ پر مسح کرنا جائز ہے ٹھیک اسی طرح جدید طرز کے صنعتی موزوں پر مسح کرنا بھی جائز ہے۔ اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ فضائلِ اعمال کے نام سے جو کتاب آج کل رائج ہے وہ دینی تعلیم کے لیے صرف ایک ناقص کتاب ہے۔ دینی تعلیم کے صحیح اور مفید ذریعے صرف تین ہیں— قرآن، سنت رسول اور سنت صحابہ۔ اس کے بعد کوئی بھی چوتھا ذریعہ مستقل حیثیت سے معتبر نہیں۔ ہر چوتھے ذریعہ کو قرآن و سنت پر جانچا جائے گا۔ اگر وہ کتاب وسنت کے مطابق ہے تو وہ قابل اعتبار ہے اور اگر وہ کتاب وسنت کے مطابق نہیں تو یقینی طور پر وہ قابل رد ہے۔ بطور خود اگر کچھ لوگ کسی چوتھے ذریعہ کو مقدس مان لیں تو ان کے ماننے سے وہ ذریعہ مقدس نہیں بنے گا۔ اس بارے میں علمائے راسخین کا مسلک ہمیشہ سے یہی رہا ہے۔
۴۔ آپ نے تنظیم کی بابت جو سوال کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ آپ دو چیز سے اپنے کام کا آغاز کریں، ہفتہ وار اجتماع اور الرسالہ کی ایجنسی۔ لوگوں کو منظم کرنے اور مقصد کی اشاعت کا صحیح آغاز یہی ہے۔ اگر آپ یہ دو کام شروع کر دیں تو انشاء اللہ دھیرے دھیرے بقیہ تمام مقاصد حاصل ہو جائیں گے۔
سوال
الرسالہ کا شمارہ ستمبر ۲۰۰۲ء صفحہ ۳۲ پر آپ رقم طراز ہیں کہ ایک باریش بزرگ سے آپ کی ملاقات ہوئی ۔ وہ عرب امارات میں رہتے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان میں رہ کر الرسالہ پڑھا ہے۔ اب چونکہ وطن سے دور عرب امارات میں ان کی آپ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے آپ سے دریافت کیا کہ کیا الرسالہ ابھی نکل رہا ہے۔ آپ کو یہ بات سن کر بہت غصہ آیا۔ مگر آپ نے صرف جواباً
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues