Al-Risala · September 2005 · page 41

قصور اپنا نکل آیا

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۱

۲۔ آپ کی معرفت اسلام کے بارے میں بات کرنا لوگوں کو بہت عجیب لگتا ہے۔ خاص کر کشمیر میں جب بھی جماعت اسلامی کے کسی فرد سے بات کی جاتی ہے تو وہ عجیب و غریب باتیں کرتا ہے جو صرف بے بنیاد الزام ہوتا ہے۔ مجھے حال میں ایک کتاب پڑھنے کو ملی " وحید الدین خان کی گمراہیاں"۔ مطالعہ کے بعد ایسا لگا کہ اس کا نام ہونا چاہیے تھا" وحید الدین خان پر بے بنیاد الزامات"۔ اس میں جو نکتے اٹھائے گئے ہیں ان کا مجھ جیسا کم علم بھی جواب دے سکتا ہے۔ آخر لوگ آپ کے متعلق غلط فہمیوں کا شکار کیوں ہیں۔

۳۔ کیا چمڑے کے موزے پر ہی مسح جائز ہے۔ جیسا کہ تبلیغی جماعت کہتی ہے۔ مجھے یہ تنگ ذہنیت لگتی ہے۔ نیز کیا گھر میں یا مسجد میں فضائل اعمال کا مطالعہ کرنا چاہیے یا قرآن کریم کا۔ ۴۔ آپ کے ہم خیال بہت سارے لوگ یہاں موجود ہیں لیکن غیر منظم ہیں۔ اس کی تنظیم کی کیا صورت ہے۔ اس سلسلہ میں آپ ہماری رہنمائی کیجئے۔ ( محمد یوسف شاہ )

جواب

۱۔ تبلیغی جماعت یا دوسرے حلقوں میں بیعت کا جو طریقہ رائج ہے اس کی کوئی سند کتاب اور سنت میں موجود نہیں۔ یہ طریقہ ظہور اسلام کے کئی سوسال بعد مسلم صوفیاء نے رائج کیا۔ اگر اس کو بدعت نہ کہا جائے تب بھی یقینی طور پر وہ ایک اجتہادی معاملہ ہے۔ اور یہ ایک مسلّم بات ہے کہ کوئی اجتہاد صرف ان افراد کے لیے لازم ہوسکتا ہے جنہوں نے یہ اجتہاد کیا ہو یا جو اس کی صحت پر یقین رکھتے ہوں۔ دوسرے لوگوں کے لیے وہ نہ حجت ہے اور نہ کسی کو یہ حق ہے کہ وہ اس سے مذکورہ قسم کا مطالبہ کرے۔

بعد کے زمانہ میں بیعت کا جو طریقہ رائج ہوا، محتاط طور پر اس کو عملی ضرورت کہا جا سکتا ہے۔ اگر کچھ لوگ اس کو عملی ضرورت کے طور پر اختیار کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن جو لوگ اس کو اعتقادی یا شرعی مسئلہ بنائیں انہیں کتاب وسنت سے اس کی واضح دلیل دینا ہوگا۔ اگر وہ قرآن وسنت سے اس کی تائید میں ناقابل انکار دلیل نہ دے سکیں تو وہ خود قصوار وار ٹھہریں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues

Printed page