Al-Risala · October 2005 · page

سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

بمبئی کا سفر نامہ پہلا سفر ۷ نومبر ۲۰۰۴ء کی صبح کو ۸ بجے نظام الدین سے ائر پورٹ کے لیے روانگی ہوئی۔ اس سفر میں مسٹر خالد انصاری میرے ساتھ تھے۔ دہلی ائرپورٹ پر پہنچے تو یہاں کسی قدر مختلف منظر تھا۔ مجھے انڈین ائر لائنز کی فلائٹ سے سفر کرنا تھا۔ یہاں دو الگ الگ ٹرمنل ہیں۔ ایک پبلک ائر لائنز کے لیے اور دوسرا پرائیویٹ ائر لائنز کے لیے۔ ہمارے ڈرائیور نے غلط طور پر ہم کو پرائیویٹ ائر لائنز کے ٹرمنل پر پہنچا دیا۔ پھر گاڑی واپس چلی گئی۔ اس کے بعد معلوم ہوا کہ ہم غلط طور پر پرائیویٹ ائر لائنز کے ٹرمنل پر پہنچ گئے ہیں۔ انڈین ائر لائنز کا ٹرمنل یہاں سے کافی فاصلے پر تھا۔ وہاں پیدل پہنچنا ایک دیر طلب امر تھا۔ مگر ائر پورٹ کی طرف سے آرام دہ کوچ کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایسے مسافر فوراً ہی ایر پورٹ کی کوچ کے ذریعہ چند منٹ میں مطلوب ٹرمنل پر پہنچ جاتے ہیں۔ اس سروس کا کوئی کرایہ نہیں۔ زندگی میں ہمیشہ بعض غیر متوقع صورت حال (eventualities) پیش آتی ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ پیشگی طور پر اس کا انتظام رکھے تاکہ اس کا سفر کے بغیر جاری رہ سکے۔ اس حقیقت کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے

انڈین ائر لائنز کے ٹرمنل پر خلافِ معمول کافی بھیڑ دکھائی دی۔ اس سے پہلے یہاں اتنی بھیڑ نہیں ہوتی تھی۔ یہ مقابلہ (competition) کا کرشمہ تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو کے زمانہ میں سرکاری کمپنیوں (پبلک سیکٹر) کے لیے تحفظ (protection) کا اصول اختیار کیا گیا تھا۔ اس نے تمام سرکاری شعبوں میں لتھارجی (lethargy) کا مسئلہ پیدا کر دیا۔ ہر شعبہ سستی اور بے عملی کا شکار ہو گیا۔ پچھلے کچھ برسوں سے اس پالیسی کو بدلا گیا ہے اور اس کے بجائے مقابلہ کرو یا مر جاؤ (compete or perish) کا اصول اختیار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد سے زبردست فرق آیا ہے۔ انڈین ائر لائنز کا معیار ہر اعتبار

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page