سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
سے بہتر ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈین ایئر لائنز پر سفر کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔ ائیر پورٹ پر مجھے ٹائلٹ جانا تھا۔ میں بوڑھے اور معذور لوگوں کے ٹائلٹ میں گیا۔ اس میں جگہ زیادہ کشادہ ہوتی ہے۔ اور دوسری مزید سہولتیں موجود رہتی ہیں۔
یہ احترامِ انسان کی ایک علامت ہے۔ جدید تہذیب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس نے انسان کے احترام کو بے حد اہمیت دی ہے۔ ہر شعبہ میں جدید تہذیب کا یہ مزاج نمایاں ہے۔ موجودہ زمانہ میں معذوروں (disabled) کے احترام کا جو اہتمام ہر جگہ کیا جاتا ہے۔ اس کی مثال تاریخ کے پچھلے دور میں غالباً موجود نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پچھلے زمانوں میں وہ سہولتیں پائی نہیں جاتی تھیں جو آج صنعتی انقلاب کے بعد پائی جارہی ہیں۔
ائیر پورٹ پر ایک صاحب نے ایک دلچسپ بات بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ زمانہ میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے بعد دوسری سب سے بڑی انڈسٹری سلمنگ انڈسٹری (slimming industry) ہے۔ یعنی موٹے مُردوں اور عورتوں کو ڈبلا کرنا۔ آج کل ایک طبقہ کے پاس بہت زیادہ پیسہ آ گیا ہے۔ یہ لوگ کھانے پینے اور آرام و عیش میں اتنا زیادہ خرچ کرتے ہیں کہ وہ موٹے ہوجاتے ہیں۔ یہ موٹاپا موجودہ زمانہ کی سب سے بڑی بیماری ہے۔ اس موذی بیماری سے بچنے کے لیے لوگ موٹا ہونے کے بعد دوبارہ اپنے آپ کو بلا کرتے ہیں۔ اور اگر وہ دبلے نہ ہوسکیں تو وہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اس کے علاج کے لیے انہیں ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے بھاری بل دینے پڑتے ہیں۔ مجھے ایک واقعہ یا دآیا کہ ایک بار ایک صاحب سے بات ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ آج کل لوگوں کو زیادہ پیسہ کمانے کا جنون ہو رہا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ لوگ زیادہ پیسہ کما کر آخر کرتے کیا ہیں۔ انہوں نے ہنس کر کہا: اپنے علاج پر خرچ کرتے ہیں۔
ہوائی جہاز کے اندر مختلف اخبارات مطالعہ کے لیے موجود تھے۔ ایک عرصہ سے میں اخبارات کو پڑھوا کر سنتا ہوں۔ یہ میرے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔ اس تجربہ سے اندازہ ہوا کہ خود پڑھنے کے مقابلہ میں پڑھوا کر سننا نسبتاً زیادہ مفید ہوتا ہے۔ اس طرح زیادہ یکسوئی حاصل رہتی ہے اور بات زیادہ سمجھ میں آتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues