Nothing dies, it only changes its form.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۴۸
اگر صرف جسم کے خاتمہ کا نام موت ہو تو "زندہ" انسانوں کے ساتھ بھی ہر روز پیش آتی رہتی ہے۔ ساٹھ سال کی عمر کا ایک شخص جس کو ہم اپنی آنکھوں کے سامنے چلتا پھرتا دیکھتے ہیں، وہ جسمانی خاتمہ کے معنی میں چھ بار مکمل طور پر مر چکا ہے۔ اب چھ بار کی جسمانی موت سے اگر ایک انسان نہیں مرا تو ساتویں بار کی موت سے کیوں اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو موت کے بعد بھی زندہ موجود رہتا ہے۔ دوسری چیزیں اگر گیس کی صورت میں باقی رہتی ہیں تو انسان اپنے شعوری وجود کی صورت میں اپنی شخصیت کو باقی رکھتا ہے۔
موت کے بعد زندگی کے اور بھی بہت سے استدلالی قرائن ہیں ان میں سے ایک نُطق (speech) ہے۔ انسان کا بولنا ایک انتہائی عجیب ظاہر ہ ہے۔ نطق آدمی کی پوری شخصیت کی علامت ہے۔ یہ نطق حیرت انگیز طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان موت کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ آواز کی ریکارڈنگ کے جدید طریقوں نے اس حقیقت کو ایک معلوم اور معروف چیز بنا دیا ہے۔ ۲۴ اگست ۲۰۰۰ کی صبح کی خبروں میں میں نے ریڈیو پر سنا کہ ہندوستان کے مرکزی وزیر مسٹر کمار منگلم کا آج صبح سویرے دہلی میں انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد رات کو آٹھ بجے دوبارہ جب میں نے ریڈیو کو کھولا تو اس میں اس کی تفصیلی خبر کے ساتھ وفات یافتہ وزیر کا ایک بیان ان کی اپنی آواز میں سنایا جا رہا تھا جو انہوں نے اپنی موت سے کچھ پہلے دیا تھا۔ جب میں نے ان کی آواز کو سنا تو اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے ایک شخص جو مر گیا تھا وہ دوبارہ زندہ ہو گیا ہے اور اٹھ کر لوگوں کے سامنے بول رہا ہے۔ نطق کے بارہ میں یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو جدید ریکارڈنگ کے دور میں ہر ایک کے سامنے آ رہا ہے۔ یہ ایک نشانی ہے جو انسان کو بتا رہی ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ زندگی کے اگلے مرحلے میں داخل ہونا ہے۔ وہ موجودہ دنیا میں مر کر موت کے بعد کی اگلی دنیا میں دوبارہ جی اٹھنا ہے۔ انسانی زندگی کی درست منصوبہ بندی وہی ہو سکتی ہے جو موت کے بعد کی اگلی دنیا میں انسان کے ابدی دور حیات تک محیط ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues