Nothing dies, it only changes its form.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۴۹
انسان کا المیہ
فطرت کے قانون کے مطابق، انسان کو ایسے حالات میں پیدا کیا گیا ہے کہ اس کو اپنی پوری زندگی مشقتوں میں گزارنی پڑے۔ اس کے مطابق مشقت اور رنج خالق کے تخلیقی منصوبہ کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کوئی بھی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے آپ کو زندگی کے اس پرمشقت کورس سے بچاسکے۔ دنیا کی زندگی میں رنج ومشقت خالق کے تخلیقی منصوبہ کا حصہ ہیں۔ یہ نظام اس لیے ہے کہ آدمی کو یاد دلایا جائے کہ موجودہ دنیا تمہارے لیے عیش گاہ کے طور پر نہیں بنائی گئی بلکہ وہ امتحان گاہ کے طور پر بنائی گئی ہے۔ موجودہ دنیا اس لیے ہے تا کہ آدمی مختلف احوال سے گزرے۔ انہی احوال کے درمیان یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص جنت کی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے یا نہیں۔ جو شخص ان احوال کے دوران صحیح اور مطلوب رد عمل نہ پیش کرے وہ اس قابل ہے کہ اس کو الگ کر کے جہنم کے کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے۔
موجودہ ترقی یافتہ دنیا میں بھی مشقت‘‘ (toil) کی یہ صورت حال بدستور باقی ہے۔ لیکن خدا کے تخلیقی نقشہ سے بے خبری کی بنا پر لوگ اس کی نوعیت کو سمجھ نہیں پاتے اور غلط رد عمل پیش کر کے اپنے آپ کو خدا کی نظر میں ایسا انسان ثابت کرتے ہیں جو امتحان کے کورس سے گزرامرگروہ اپنے آپ کو کامیاب نہ کر سکا۔ موجودہ زمانے میں اس مسئلے کو لے کر بڑے بڑے ادارے کھلے ہیں جو اپنے دعوے کے مطابق ڈی اسٹریسنگ (de-stressing) کا کام کرتے ہیں۔ یعنی دماغی سوچ کو معطل کر کے آدمی کو سکون عطا کرنا۔ مگر یہ ایک قسم کا وقتی عمل تنخدیر (anesthesia) ہے، نہ کہ مسئلے کا کوئی حقیقی حل۔ اس مسئلے کا حقیقی حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے اسٹرلیس مینجمنٹ (stress management)۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ جولوگ اپنی زندگی میں مصیبت کا شکار رہتے ہیں وہ اکثر اپنے آپ کو اُس چیز میں مشغول کر لیتے ہیں جس کو انسانی خدمت یا سوشل سروس کہا جاتا ہے۔ یہ گویا غم غلط کرنے کی ایک تدبیر ہے مگر وہ بھی مشقت‘‘ کی صورت حال کا صحیح اور مطلوب رد عمل نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues