انسان کی منزل
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۵۲
انسان کی منزل
ڈاکٹر الکس کیرل (Alexis Carrel) ۱۸۷۳ میں فرانس میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ سائنسی تعلیم کے بعد انہوں نے اپنے کیرئر کا بیشتر حصہ امریکا میں گزارا۔ ۱۹۱۲ میں ان کو میڈیسن کا نوبل پرائز ملا۔ ۱۹۴۴ میں ان کا انتقال ہوا اور فرانس میں ان کے وطن میں ان کی تدفین ہوئی۔ ڈاکٹر الکس کیرل کی ایک کتاب ۱۹۳۵ میں انسان نامعلوم (Man The Unknown) کے نام سے چھپی۔ یہ کتاب بہت مقبول ہوئی۔ مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے شایع ہوئے۔ اس کتاب کے بارے میں اس کے ایک تبصرہ نگار نے درست طور پر لکھا ہے کہ: یہ کتاب خالص سائنسی اعتبار سے انسان اور اس کی زندگی کے بارے میں مصنف کے تجربات کا خلاصہ پیش کرتی ہے: This book sums up much of his experience of man and his life seen from the purely scientific aspect. ۳۱۲ صفحہ کی اس کتاب میں ڈاکٹر الکس کیرل انسانی زندگی کی حقیقت معلوم کرنے میں نا کام رہے۔ چنانچہ اپنی اس کتاب کا ٹائٹل انہوں نے ان الفاظ میں مقرر کیا: انسان نامعلوم (Man The Unknown)
اس کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جہاں تک انسان بحیثیت ایک سائنسی وجود کا معاملہ ہے اس کو ڈاکٹر الکس کیرل بڑی حد تک دریافت کر چکے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی کتاب کا نام انسان نامعلوم کیوں رکھا۔ ایسا ایک کنفیوژن کی بنا پر ہوا۔ الکس کیرل نے انسان‘ کو تو معلوم کر لیا تھا مگر ان کا مطالعہ ان کو یہ نہ بتا سکا کہ اس انسان کی منزل کیا ہے۔ ان کو محسوس ہوا کہ ایک معلوم انسان ایک غیر معلوم منزل کی طرف جا رہا ہے۔ اور یہی ان کی عدم معرفت کا اصل سبب ہے۔ اس اعتبار سے کتاب کا زیادہ صحیح ٹائٹل یہ ہوگا: نامعلوم منزل (Goal The Unknown)
یہ صرف ڈاکٹر الکس کیرل کا مسئلہ نہیں۔ یہی تمام فلاسفہ اور مفکرین کا مسئلہ ہے۔ انسان
‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues