ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۵۱
رہے۔ دوسری طرف یہ ایک حقیقت ہے کہ موت کے بعد آنے والی دوسری دنیا غم سے پاک ہوگی جو صرف خدا کے پسندیدہ لوگوں کو ملے گی۔ زندگی کے بارے میں یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مذکورہ قسم کے تمام مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
اس تخلیقی تقسیم کی روشنی میں دیکھیں تو تمام انسانی مسائل کی جڑ یہ ہے کہ لوگ موت سے پہلے کی دنیا میں اپنی جنت بنانا چاہتے ہیں جب کہ یہاں فطرت کے نظام کے تحت وہ حالات ہی موجود نہیں کہ کوئی شخص یہاں اپنی جنت بنا سکے۔ جس طرح ریت یا دلدل کے اوپر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی ہے اسی طرح موجودہ دنیا میں کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ یہاں اپنا عیش محل تعمیر کر سکے۔ اور جب فطری قانون کے تحت آدمی اس ناکامی سے دوچار ہوتا ہے تو وہ مختلف قسم کے منفی رد عمل کا شکار ہو کر اپنے کو مزید تباہی میں ڈال لیتا ہے۔
صحیح یہ ہے کہ آدمی اس تخلیقی قانون کا اعتراف کرے اور اس کے مطابق، وہ اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے ۔ یہ منصوبہ صرف ایک ہے ۔ موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو وہ مطلوب انسان بنانا جو موت کے بعد کی دنیا میں جنت میں داخلہ کا مستحق قرار پائے۔ فطرت کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، موت سے پہلے کی دنیا میں انسان کے لیے قناعت ہے، اور موت کے بعد کی دنیا میں انسان کے لیے جنت۔ دور قناعت میں جنت نہیں، اور دور جنت میں قناعت نہیں۔
ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن
ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے ۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول میسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے :
دی اسپرچول میسیج، فی کاپی -/ 15 روپے، سالانہ -/ 165 روپے ۔ خط و کتابت کا پتہ ہے :
The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 28341654/28346079/28218609, Fax: 28236323 Email: hbshaikh@bom5.vsnl.net.in
‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues