انسان اور حیوان
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۵۶
انسان اور حیوان
معلوم کائنات میں صرف انسان وہ مخلوق ہے جو ذہن (intelligence) رکھتا ہے۔ معلوم طور پر کوئی بھی دوسری مخلوق اس معاملے میں انسان کی شریک نہیں۔ حیوان بظاہر ایک زندہ مخلوق ہے۔ مگر حیوانات کی تمام سرگرمیاں اُن کی جبّلت (instinct) سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ جبّلت کو سادہ زبان میں بے شعور ذہانت کہہ سکتے ہیں۔ باشعور ذہانت صرف انسان کی خصوصیت ہے کسی اور کی نہیں۔ جدید تحقیقات نے بتایا ہے کہ انسان کا ذہن لامحدود امکانات کا حامل ہے: Human brain contains about hundred million billion billion particles. انسان اپنی صلاحیت کے اعتبار سے لامحدود امکانات لے کر پیدا ہوتا ہے مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ہر انسان اس احساس کے ساتھ مرتا ہے کہ وہ جو کچھ پانا چاہتا تھا اس کو وہ نہ پا سکا۔ فل فل منٹ (fulfilment) ہر انسان کی ایک گہری تمنا ہے۔ مگر ہر انسان فل فل منٹ کی منزل کو پائے بغیر مر جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ٹریجڈی ہے جو اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کا مقدر بنی ہوئی ہے۔
اس دنیا میں بے شمار حیوانات ہیں۔ وہ بھی انسان کی طرح پیدا ہوتے ہیں اور مرتے ہیں ، مگر مذکورہ قسم کی عدم آسودگی کسی حیوان کا مسئلہ نہیں۔ ٹریجڈی کا لفظ صرف انسان کی ڈکشنری میں پایا جاتا ہے، وہ حیوان کی ڈکشنری میں موجود نہیں۔
انسان اور حیوان میں اس تضاد کا جواب ایک سادہ واقعے میں ملتا ہے۔ انسان اور حیوان کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر استثنائی طور پر آئندہ کل (tomorrow) کا تصور پایا جاتا ہے۔ گویا انسان کی فطرت میں یہ شامل ہے کہ وہ اپنے آج کو کل تک وسیع کرنا چاہتا ہے، وہ اپنے آج میں جو کچھ نہ پا سکا اس کو وہ اپنے کل میں پانا چاہتا ہے۔
حیوانات کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ حیوانات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ آئندہ کل (tomorrow) کا کوئی تصور نہیں رکھتے۔ وہ صرف آج میں جیتے ہیں اور آج ہی میں مر جاتے ہیں، حتیٰ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues