Al-Risala · November 2005 · page 457

انسان اور حیوان

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۵۷

کہ حیوانات کا بعض کام جو بظاہر کل پر مبنی معلوم ہوتا ہے مثلاً، چیونٹی کا آئندہ موسم کے لیے خوراک جمع کرنا، وہ بھی جبلت کے تقاضے کے تحت ہوتا ہے نہ کہ کل یا مستقبل کے شعور کے تحت۔ انسان کی اس منفرد صفت کو لے کر جب غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا فل فل منٹ کے درجے کو پانے کا جذبہ کل کی نسبت سے ہے۔ یعنی وہ کل حاصل ہونے والا ہے۔ آج کا حیاتیاتی اسپین (span) بہت مختصر ہے، اس لیے اس کے حصول کو فطرت نے اس کو کل کے دور حیات میں رکھ دیا ہے۔

اس لحاظ سے انسان کی زندگی کے دو مرحلے ہیں، ایک قبل از موت مرحلہ حیات اور دوسرا بعد از موت مرحلہ حیات۔ قبل از موت مرحلہ حیات عارضی ہے اور بعد از موت مرحلہ حیات ابدی۔ یہ تقسیم اس لیے ہے کہ انسان جو کچھ آج نہ پاسکا اس کو وہ کل کے مرحلہ حیات میں پاسکے۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، انسانی برین (brain) کے اندر ایک سویلین، بلین بلین پارٹکل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انسانی ذہن لا محدود پوٹینشیل رکھتا ہے۔ یہ پوٹینشیل اتنا زیادہ ہے کہ انسان کی طبعی عمر جو لگ بھگ سو سال ہے، وہ اس پوٹینشیل کو کام میں لانے کے لیے بالکل ناکافی ہے۔ حتی کہ اگر انسان کی عمر اس سے بہت زیادہ ہو تب بھی زمین کے حالات اتنے محدود ہیں کہ اس محدود زمین پر انسان اپنے لامحدود ذہن کا استعمال نہیں پاسکتا۔ انسانی ذہن کے لامحدود امکان کے مقابلے میں انسان کی عمر بھی ناکافی ہے اور موجودہ زمینی قیام گاہ کی عمر بھی ناکافی۔

اس حقیقت پر غور کیا جائے تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوں گے کہ انسان کو اپنے مکمل فل فل منٹ کے لیے ایک اور طویل تر عمر اور ایک اور زیادہ بڑی دنیا درکار ہے۔ موجودہ حالت میں انسانی ذہن کے امکانات ہمیشہ غیر استعمال شدہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔

اس حقیقت کو سامنے رکھ کر زندگی کی توجیہہ کی جائے تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوں گے کہ انسان کی زندگی آئس برگ کی مانند ہے۔ اس آئس برگ کا بہت چھوٹا حصہ قبل از موت مرحلہ حیات میں نظر آتا ہے اور اس کا زیادہ بڑا حصہ بعد از موت مرحلہ حیات میں چھپا ہوا ہے۔ یہ مانے بغیر انسانی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues

Printed page