Al-Risala · November 2005 · page 460

This number does not exist.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۶۰

موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی خدا کا نام لیتا ہے۔ ہر آدمی کسی نہ کسی چیز کو خدا کا درجہ دے کر اس کو اپنائے ہوئے ہے۔ مگر جہاں تک روحانی شخصیت کا تعلق ہے، اس کا حقیقی معنوں میں کہیں وجود نہیں۔ اس کا سبب واضح طور پر یہی ہے کہ لوگ غیر خداؤں کو اپنا خدا بنائے ہوئے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی غیر خدا کو ٹیلی فون کر رہے ہیں۔ مگر جواب میں ہر ایک کے پاس یہ آواز آ رہی ہے کہ جو نمبر تم نے ڈائل کیا ہے وہ نمبر موجود نہیں، جس کو تم خدا سمجھ کر پکار رہے ہو اس خدا کا کہیں وجود ہی نہیں، اس لیے تم کو اس کی طرف سے کوئی جواب بھی ملنے والا نہیں۔

ہر آدمی کی یہ پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقی خدا کو دریافت کرے اور پھر یہ معلوم کرے کہ اس خدا سے ربط قائم کرنے کا ذریعہ اس کے لیے کیا ہے۔ اس دریافت کے بغیر انسانی زندگی نہ صرف نامکمل ہے بلکہ وہ یقینی طور پر تباہی کے انجام سے دوچار ہونے والی ہے۔ یہی کسی انسان کا سب سے بڑا مقصد ہے، یہی انسان کی جدوجہد کا سب سے بڑا نشانہ ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انسانی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔ جس انسان کی زندگی اس دریافت سے خالی ہو وہ بلاشبہ سب سے بڑا مفلس ہے، خواہ بظاہر اس نے مادی چیزوں کا ڈھیر اپنے گرد اکٹھا کر لیا ہو۔

خدا کی دریافت سے مُراد بَرتر سچائی (higher truth) کی دریافت ہے۔ اور اس برتر سچائی کی دریافت اور اس سے تعلق قائم کرنا ہی وہ چیز ہے جو انسان کی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔ یہ دریافت نہیں تو زندگی بامعنی بھی نہیں۔

مزید سنگین بات یہ ہے کہ کسی انسان کو یہ موقع صرف قبل از موت مدت حیات میں ملتا ہے۔ بعد از موت کی مدت حیات میں کسی انسان کو یہ موقع ملنے والا نہیں۔ انسان کے لیے اُس کے خالق کا بنایا ہوا قانون یہ ہے ؀موت سے پہلے کی زندگی میں کرنا، اور موت کے بعد کی زندگی میں اُس کا انجام پانا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues

Printed page