Al-Risala · November 2005 · page 459

This number does not exist.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۵۹

یہ نمبر موجود نہیں!

آپ اگر اپنے ٹیلی فون پر کسی شخص کا نمبر ڈائل کریں اور کوئی غلط بٹن دب جا۔ کے تو آپ کی کال آپ اگر اپنے مبی فون پر کسی عمل کا نمبر ڈائل کریں اور کوئی غلط بٹن دب جائے تو آپ کی کال مطلوب شخص تک نہیں پہنچے گی۔ آپ کو دوسری طرف سے ہیلو کی آواز نہیں آئے گی بلکہ کمپیوٹر ائزڈ سسٹم کے تحت یہ ہوگا کہ ٹیلی فون ایکسچینج سے ریکارڈ کی ہوئی ایک آواز سنائی دے گی۔ ۳۱ اکتوبر ۲۰۰۴ء کو میرے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ میں نے اپنے ٹیلی فون پر دہلی کے ایک صاحب کا نمبر ڈائل کیا۔ دوسری طرف سے یہ آواز سنائی دی یہ نمبر موجود نہیں :

This number does not exist.

ایکسینج کی یہ آواز سن کر اچانک میرے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان بر یا ہوگیا ہے۔

اسپیچ کی یہ آواز سن کر اچانک میرے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ اس مادی واقعہ میں ایک بہت بڑا روحانی سبق موجود ہے۔ وہ یہ کہ اگر کوئی انسان خدا سے ربط قائم کرنا چاہے اور وہ اپنے غلط ذہن کی بنا پر خدا کے سوا کسی اور کو اپنا خدا سمجھ بیٹھے اور خدا سمجھ کر اس کو پکارنے لگے تو اس کے ساتھ بھی یہی ہوگا کہ براہِ راست خدا کی طرف سے تو اس کو کوئی جواب نہیں ملے گا۔ البتہ ایک آواز کو سنائی دے گی جو اس سے کہہ رہی ہوگی کہ تم نے جس خدا کو پکارا ہے وہ خدا خدا کی طلب انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر خدا کو پانا چاہتا ہے۔ مگر تاریخ میں ہمیشہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں نے یہ غلطی کی کہ خدا کے سوا کسی اور کو خدا کا درجہ دے دیا۔ حقیقی خدا سے رشتہ قائم ہونا انسان کے لیے سب سے بڑی رحمت ہے۔ جس عورت یا مرد کا رشتہ خدا کے ساتھ قائم ہو جائے اس کی زندگی میں ہدایت کی روشنی آجائے گی۔ اس کے اندر روحانی شخصیت پیدا ہوگی۔ اس کو ذہنی ارتقاء کا اعلیٰ درجہ حاصل ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص کسی غیر خدا کو خدا کا درجہ دے دے وہ ہمیشہ اس ارشار کی رو سے اس دنیا میں انسان کے لئے ہدایت کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے اور اس کے بغیر وہ زندگی کے اندھیروں میں بھٹکتا رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues

Printed page