Al-Risala · November 2005 · page 462

تقدیر انسانی

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۶۲

کہ وہ اس خوبصورت باغ میں داخل ہو سکے۔

فطرت میں یہ تضاد کیوں ہے۔ انسان کے سوا وسیع کائنات میں ایسا تضاد کہیں موجود نہیں۔ نباتات، جمادات اور حیوانات کی پوری دنیا اس قسم کے تضاد سے مکمل طور پر خالی ہے۔ پھر یہ تضاد استثنائی طور پر صرف انسان کی زندگی میں کیوں پایا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اور کائنات کی دوسری چیزوں کے درمیان ایک بے حد بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ انسان کی زندگی کے دو مرحلے ہیں— موت سے پہلے کا مرحلہ حیات اور موت کے بعد کا مرحلۂ حیات۔ اس کے برعکس کائنات کی بقیہ تمام چیزوں کا صرف ایک مرحلہ ہے یعنی وجود میں آنا اور پھر ایک دن مٹ جانا، پیدا ہونا اور پھر مر کر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانا۔ اصل یہ ہے کہ انسان جو کچھ اپنے پہلے مرحلۂ حیات میں پانا چاہتا ہے وہ اس کے لیے دوسرے مرحلۂ حیات میں مقدر کیا گیا ہے۔ اور جو چیز سفر حیات کے اگلے مرحلے میں ملنے والی ہو وہ سفر حیات کے ابتدائی مرحلے میں کبھی کسی کو نہیں ملتی۔ اس صورت حال کا سبب یہ ہے کہ انسان کے لیے فطرت کا ایک خصوصی قانون ہے جو اس کائنات کی دوسری چیزوں کے لیے نہیں۔ وہ یہ کہ انسان کی زندگی کو عمل اور جزا کے اصول کے تحت رکھا گیا ہے۔ یعنی موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں عمل کرنا اور موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں اس کا انجام پانا۔

یہی قانون انسان کی زندگی کے معاملے کو سمجھنے کے لیے کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قانون کو سمجھنے کے بعد انسان کی پوری زندگی با معنی بن جاتی ہے۔ یہ قانون انسان کی زندگی کے تمام سوالات کا کامل جواب فراہم کرتا ہے۔ اس قانون کو جاننے کے بعد پوری انسانی زندگی کی تشفی بخش توجیہہ مل جاتی ہے۔ اس قانون کے مطابق موت سے پہلے کی دنیا انسان کے بیج ڈالنے کا مرحلہ ہے اور موت کے بعد کی دنیا اس کے نتیجے میں ہر ہرا درخت اور پھول پھل پانے کا مرحلہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ موجودہ دنیا میں پھول اور پھل حاصل کرنے کی لا حاصل کوشش نہ کرے بلکہ وہ اپنی ساری توجہ بہترین طور پر تخم ریزی میں لگا دے۔ یہ وہ انسان ہے جو موت کے بعد کی دنیا میں جنت کی صورت میں وہ سب کچھ پالے گا جس کو وہ موت سے پہلے کی دنیا میں نہ پا سکا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues

Printed page