تقدیر انسانی
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۶۳
انسان کا دریافت خدا تمام خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔
God is the eternal source of all kinds of beauty and goodness. خدا نے انسان کو بنایا۔ انسان اپنی ذات میں ایک مکمل وجود ہے۔ اس کے اندر ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیتیں کمال درجہ میں موجود ہیں۔ انسان کے دماغ (brain) میں 100 million billion billion پارٹیکل ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کے خالق نے انسان کے اندر لامحدود صلاحیتیں رکھ دی ہیں۔
اسی کے ساتھ انسان کو ایک ایسی انوکھی چیز دی گئی ہے جو وسیع کائنات میں کسی کو حاصل نہیں۔ یہ ہے احساس مسرت۔ انسان اس کائنات میں واحد مخلوق ہے جو pleasure کا احساس رکھتا ہے اور pleasure سے انجوائے کرنے کی لامحدود capacity کا مالک ہے۔ انسان کے لیے ہر چیز امکانی طور پر خوشی کا ذریعہ ہے۔
خدا نے اسی قسم کی انوکھی صلاحیتوں کے ساتھ انسان کو پیدا کیا۔ اس کے بعد خدا نے ایک حسین دنیا بنائی جس کا نام اس نے جنت رکھا۔ جنت ایک perfect world ہے جس میں ہر قسم کی pleasure اپنی آخری perfect صورت میں موجود ہے۔ انسان اور یہ جنت دونوں گویا ایک دوسرے کا ثنیٰ (کاؤنٹر پارٹ) ہیں۔ انسان جنت کے لیے ہے اور جنت انسان کے لیے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کو پورا fulfilment ملے۔ جنت گویا انسان کی تکمیل ہے۔ جنت کے بغیر انسان بے معنی ہے اور انسان کے بغیر جنت بے معنیٰ ۔ جنت کے بغیر انسان کی زندگی ادھوری ہے اور انسان کے بغیر جنت ادھوری۔
انسان اس جنت کا امکانی باشندہ ہے مگر یہ جنت کسی انسان کو پیدائشی یا نسلی حق کے طور پر نہیں ملتی۔ جنت میں داخلہ کی شرط یہ ہے کہ انسان یہ ثابت کرے کہ وہ اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس کا مستحق ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues