Al-Risala · November 2005 · page 466

خدا کا کریشن پلان

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۶۶

غیر معیاری دنیا میں آدمی ایک آزمائشی مدت گزارے، اور اس کے بعد وہ اپنے عمل کے مطابق معیاری دنیا میں رہائش کا حق پاسکے، جس کا دوسرا نام جنت ہے۔

موجودہ دنیا ایک آزمائشی دنیا ہے۔ یہاں کسی عورت یا مرد کو جنت کا مستحق بننے کے لیے جس اہلیت کا ثبوت دینا ہے، اس کے دو بڑے اجزاء ہیں— حق کا اعتراف اور با اصول زندگی۔ جو عورت یا مرد اس جانچ میں پورے اُتریں اُن کو جنت کی معیاری دنیا میں جگہ ملے گی۔ اور جو لوگ اس جانچ میں فیل ہو جائیں وہ ابدی طور پر محرومی کی زندگی گزاریں گے۔

موجودہ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو پوری طرح آزاد پاتا ہے، مگر یہ آزادی بطور حق نہیں بلکہ وہ ہر ایک کے لیے آزمائش کا ایک پرچہ ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ کسی دباؤ کے بغیر سچائی کا اعتراف کرے ۔ وہ کسی جبر کے بغیر حق کے آگے جھک جائے۔ وہ اپنی آزادی کو خود اپنے اختیار سے پابندی بنا لے ۔ حق کے آگے جھکنا بلاشبہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی قربانی ہے۔ حق کا اعتراف کرنا بظاہر اپنے آپ کو دوسرے کے مقابلے میں چھوٹا کرنا ہے، مگر یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو سب سے زیادہ اونچا درجہ دینے والی ہے۔ وہ آدمی کو جنت کے دروازے تک پہنچانے والی ہے۔

اس سلسلے میں دوسری چیز با اصول زندگی ہے۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا کردار اُس کے جذبات کے تحت بنتا ہے۔ غصہ، انتقام، حسد، نفرت، مقابلہ پرستی وغیرہ ۔ یہ وہ منفی احساسات ہیں جو کسی آدمی کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔ مگر آدمی کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں با اُصول بنے۔ وہ خارجی محرکات کے تحت اپنا کیریکٹر نہ بنائے بلکہ اصول کے تحت اپنے کردار کا تعین کرے۔ وہ خود اپنے فیصلے کے تحت اپنی شخصیت کی تشکیل اعلیٰ اصولوں کی روشنی میں کرے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو جنتی کردار کہا جاتا ہے۔

تخلیق کا یہی منصوبہ ہے جس کے تحت انسان کو بنایا گیا ہے۔ انسان پوری کائنات کی سب سے اعلیٰ مخلوق ہے۔ انسان کا وجود ایک ایسا انوکھا وجود ہے جس کی کوئی دوسری مثال وسیع کائنات میں نہیں ملتی۔ انسان کو بجا طور پر اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے۔ یعنی تمام پیدا کی ہوئی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues

Printed page