کائناتئ ماڈل
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۷۴
کائناتئ ماڈل
انسان اپنے آپ کو ایک وسیع کائنات میں پاتا ہے۔ یہ کائنات گویا ایک بہت بڑا سماج ہے۔ انسان اس سماج کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ انسان کو بھی اپنی زندگی میں اُسی روش کو اپنانا ہے جس روش کو کائنات کے دوسرے اجزا عملاً اپنائے ہوئے ہیں۔ یہی انسان کے لیے صحیح فطری طریقہ ہے اور اِسی طریقہ میں انسان کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔
یہ کائناتئ ماڈل کیا ہے۔ آپ خلا میں پھیلے ہوئے ستاروں اور سیاروں کو دیکھئے۔ ہر ستارہ اور سیارہ نہایت پابندی کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں چل رہا ہے۔ ان میں سے کوئی کسی دوسرے کے مدار میں داخل نہیں ہوتا۔ اسی ڈسپلن کی وجہ سے خلا میں ہر طرف امن قائم ہے۔ انسان کو بھی اپنے سماج میں عدم مداخلت (non-interference) کی اسی پالیسی کو اختیار کرنا ہے۔ ہر ایک کے اندر یہ زندہ شعور ہونا چاہیے کہ اس کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے دوسرے کی آزادی شروع ہوتی ہے۔ اِسی طرح درختوں کی دنیا کو دیکھئے۔ درختوں نے خاموشی کے ساتھ یہ نظام اختیار کر رکھا ہے کہ وہ زندہ اجسام کی ضرورت پورا کرنے کے لیے مسلسل آکسیجن سپلائی کرتے ہیں اور زندہ اجسام سے نکلی ہوئی غیر مطلوب کاربن ڈائی آکسائڈ کو اپنے اندر لے لیتے ہیں۔ یہ ایک بے غرضانہ نفع بخشی کا نظام ہے۔ انسان پر بھی لازم ہے کہ وہ بھی اِسی نظام کو اپنی زندگی میں اختیار کرے۔ اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ پہاڑوں سے پانی کے چشمے اوپر سے نیچے کی طرف جاری ہوتے ہیں۔ ان چشموں کے ساتھ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ راستہ میں ان کے سامنے ایسے پتھر آتے ہیں جو بظاہر ان کے سفر کے لیے رکاوٹ ہوتے ہیں۔ مگر چشمہ ایسا نہیں کرتا کہ وہ پتھر کو ہٹا کر اپنا راستہ بنانے کی کوشش کرے۔ اس کے بجائے وہ یہ کرتا ہے کہ وہ پتھر کے کنارے سے اپنا راستہ بنا کر آگے چلا جاتا ہے۔ یہ گویا اِس بات کا پیغام ہے کہ رکاوٹوں سے نہ ٹکراؤ بلکہ رکاوٹوں سے ہٹ کر اپنی سرگرمی جاری کرو۔ اسی طرح حیوانات کی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بار بار ان کے درمیان کوئی نزاعی اِشو پیدا ہوتا
‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues