کائناتئ ماڈل
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۷۵
ہے مگر ہمیشہ ایسا ہَواتا ہے کہ وقتی طور پر کچھ غُرا کر یا سینگ مار کر وہ اس کو بھلا دیتے ہیں اور جلد ہی وہ ایسے نارمل ہو جاتے ہیں جیسے کہ کچھ نہیں ہوا۔ اسی طرح انسان کو اپنے سماج میں رہنا ہے۔ سماجی زندگی میں بار بار ایسی چیزیں پیش آتی ہیں جو کسی عورت یا مرد کو ناگوار ہوتی ہیں۔ مگر ہر ایک کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس ناگواری کو وقتی بنادے۔ وہ اس کو مستقل تلخی کی صورت نہ اختیار کرنے دے۔
فطرت کی دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ہر چیز دوسروں کو کچھ دیتی ہے مگر وہ دوسروں سے اپنے لیے کچھ نہیں لیتی۔ مثلاً سورج یکطرفہ طور پر اہل دنیا کوروشنی دیتا ہے مگر وہ اس کی کوئی قیمت وصول نہیں کرتا۔ ہو مسلسل طور پر آکسیجن سپلائی کرنے کا کام کر رہی ہے مگر وہ اس کا کوئی معاوضہ نہیں لیتی۔ اسی طرح موجودہ دنیا کی تمام چیزیں بلا معاوضہ لوگوں کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں، حالاں کہ ان میں سے کوئی بھی چیز اپنی خدمت کے لیے اپنابل اُن لوگوں کے پاس روانہ نہیں کرتی جو اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ آس پاس کی جو دنیا ہے وہ پوری دنیا ایک دینے والی دنیا (giver world) ہے، وہ لینے والی دنیا (taker world) نہیں۔ گویا کہ اس دنیا کا کلچر دینے والا کلچر (giver culture) ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز مسلسل یہ پیغام دے رہی ہے کہ دوسروں سے لیے بغیر دوسروں کو دینے والے بنو۔ انسان کو یہی دینے والا کلچر اپنانا ہے۔ اس کو اپنے معاشرے میں دینے والا بن کر رہنا ہے نہ کہ لینے والا۔ انسان کے لیے اس کے گردوپیش کی کائنات ایک وسیع ماڈل ہے۔ انسان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اس ماڈل کو اپنی زندگی میں اختیار کرے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں یہ ماڈل قانون فطرت کے تحت مجبورانہ طور پر قائم ہے۔ جب کہ انسان اس کائناتی ماڈل کو اپنی زندگی میں شعوری طور پر خوداپنے اختیار کے تحت قائم کرے گا۔
اپنے آزادانہ اختیار کو کائناتی ڈسپلن کے تحت لانا، گویا اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بے اختیار کر لینا ہے۔ قانون فطرت کے مقابلے میں یہی سپردگی (submission) کا رویہ انسان کے لیے صحیح ترین رویہ ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جو انسان کو اپنے ابدی دور حیات میں کامیابی کا ضامن ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues