Al-Risala · November 2005 · page 478

The Road to Paradise

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۷۸

آئیڈیل دنیا جت امیرویر فی فلائٹ پرین (Jet Wings) کے شمارہ اپریل تھا، جس کا عنوان یہ تھا ۔ روڈ ٹو پیراڈائز :

The Road to Paradise

، اس صفحے کے ساتھ تصویر مضمون میں مل باس کی رُٹ (Irani میں ایک ون پٹھا سات صفحے کے اس با تصویر مضمون میں اُس کے رائٹرز (Gustasp and Jeroo Irani) نے بتایا ہے کہ انہوں نے انڈیا کے اروناچل پردیش کے خوبصورت پہاڑی علاقے کا سفر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمالیہ کی اِس بلند دنیا میں ہر طرف فطرت کا حسن وافر مقدار میں موجود ہے۔ مگر اس علاقے میں سفر کرتے ہوئے بار بار تلخ تجربے بھی ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ دُور سے دیکھنے میں تو بہت حسین معلوم ہوتا ہے لیکن وہاں کے راستوں میں چلنا اور وہاں کے مسائل سے نمٹنا پھول میں کانٹے کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ ان تجربات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا کہ’’ ہر جنت کا ایک کی با ت یہ ہے کہ ہر جنت کے ساتھ ایک سانپ ہوتا ہے:

Every Paradise has its serpent.

مثال کے طور پر جنت کے ساتھ ایک سانپ کی موجودگی اور آدم کو یہ مثل بائبل کی ایک کہانی پر مبنی ہے۔ اس کہانی کے مطابق آدم کی جنت میں ایک سانپ بھی موجود تھا۔ مگر یہ کہانی درست نہیں۔ خدا کی بنائی ہوئی ابدی جنت میں کوئی ”سانپ“ نہیں۔ البتہ انسان بطورِ خود اپنے لیے جو عارضی جنتیں بناتا ہے ان میں سے ہر جنت میں ضرور ”سانپ“ موجود ہوتے ہیں۔ انسان کی بنائی ہوئی کوئی بھی جنت سانپ سے خالی نہیں۔

اصل یہ ہے کہ خدا کی بنائی ہوئی ابدی جنت تو ایک آئیڈیل جنت ہے۔ وہاں نہ حال کی کوئی تکلیف ہے اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ وہاں نہ کوئی ڈس ایڈوانٹیج ہے اور نہ کوئی محدودیت۔ وہاں نہ شور ہے اور نہ کسی قسم کی کثافت (pollution)۔ وہاں نہ فساد ہے اور نہ کوئی تشدد۔ یہ مکمل معنوں میں ایک معیاری جنت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues

Printed page