Every Paradise has its serpent.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۷۹
یہ ابدی جنت اس لیے بنائی گئی ہے تا کہ منتخب لوگوں کو وہاں بسایا جائے۔ انسانوں میں سے جو افراد اعلیٰ خدائی معیار پر پورے اُتریں اُن کو یہ جنت مَوت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں انعام کے طور پر دی جائے گی۔ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس سے نکلنا نہ چاہیں گے۔ اس ابدی جنت کی طلب ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہے۔ ہر آدمی عین اپنی فطرت کے زور پر اس جنت کا طالب ہے۔ وہ ہر قیمت پر اس کو پانے کے لیے بے تاب رہتا ہے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں ہر عورت اور مرداسی خوابوں والی ’جنت‘ کو بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ ہر عورت اور مرد کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے خوابوں میں بسی ہوئی جنت کو بنائے اور اس کے اندر زندگی گزارے۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ ہر عورت اور مرد کے حصے میں صرف جدوجہد آتی ہے، اس کا مطلوب نتیجہ کسی کے حصے میں نہیں آتا۔ ہر عورت اور مرد اپنی خوابوں والی جنت کو پانے میں اپنی ساری طاقت لگا دیتے ہیں مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے ڈریم لینڈ کو پائیں، اچانک ان کی موت آتی ہے اور وہ نا تمام آرزوؤں (unfulfilled wishes) کے ساتھ اگلی دنیا کی طرف چلے جاتے ہیں۔
کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ ہر آدمی یہ جانے کہ اس کی زندگی کے دو مرحلے ہیں۔ قبل از موت مرحلۂ حیات اور بعد از موت مرحلۂ حیات۔ خالق نے جس چیز کو بعد از موت مرحلۂ حیات میں رکھ دیا ہو اس کو کوئی شخص قبل از موت مرحلۂ حیات میں پانے والا نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو جاننے کا نام سچائی کی دریافت ہے۔ ہر عورت اور مرد کے لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ وہ حیاتِ انسانی کے ان دو مرحلوں کو جانیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ آج کی دنیا اپنے آپ کو مستحق بنانے کی جگہ ہے اور کل کی دنیا اپنے استحقاق کے مطابق اپنا انجام پانے کی جگہ۔ ہر عورت اور مرد کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ آج کی زندگی کو تیاری کا ایک موقع سمجھے۔ وہ اپنے وقت اور طاقت کا سب سے بڑا استعمال یہ سمجھے کہ وہ ابدی جنت میں داخلے کا خدائی معیار دریافت کرے۔ اور اس دریافت کے مطابق اپنی زندگی کا نقشہ بنائے تا کہ جب اس کو موت آئے تو وہ خدا کی ابدی جنت کا لائق امیدوار (qualified candidate) قرار پائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues