Al-Risala · November 2005 · page 482

When the earth is turned into another earth.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۸۲

You will surely move from one stage to another stage. What then is the matter with them, that they believe not? and when the Qur'an is read to them, they don't surrender before God. (84: 19-21)

قرآن کی ان آیات میں انسان کی اسی تہذیبی تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ کا ارتقاء معلوم طور پر بتارہا ہے کہ انسانی تہذیب مسلسل ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس ترقی کا آخری نمونہ وہی ہوگا جس کوروحانی تہذیب یا جنت کہاگیا ہے۔ تہذیب کی تاریخ بتاتی ہے کہ معلوم طور پر، انسانی تہذیب تین بڑے ادوار سے گزر چکی ہے۔ تمام قرائن بتا رہے ہیں کہ اب وہ اپنے سفر کے چوتھے اور آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ تہذیب کے یہ تین بڑے ادوار حسب ذیل ہیں:

۱۔ ۱۔ حَجری تہذیب (Stone Civilization)

۲۔ زرعی تہذیب (Agricultural Civilization)

۳۔ صنعتی تہذیب (Industrial Civilization)

ہر شخص جانتا ہے کہ تہذیب کے یہ تین ادوار وقوع میں آچکے ہیں۔ تاہم فیوچر شاک (Future Shock) کے مصنف الون ٹافلر (Alvin Taffler) کا کہنا ہے کہ تہذیب کا چوتھا، اور شاید آخری دور مستقبل میں ظاہر ہونے والا ہے۔ اس چوتھے دور کو الون ٹافلر نے سپر انڈسٹریل ایج (Super Industrial Age) کہا ہے۔ یہ چوتھا دور، پچھلے ادوار کے مقابلے میں، مادی سے زیادہ غیر مادی ہوگ۱۔ اس لیے زیادہ بہتر ہے کہ اس چوتھے دور کو روحانی تہذیب (Spiritual Civilization) کا نام دیا جائے۔

ا۔ اب پہلی تہذیب، حجری تہذیب کو لیجئے۔ یہ تہذیب کا وہ دور ہے جب کہ انسان صرف یہ کر سکتا تھا کہ زمین کی سطح پر بروقت جو چیزیں موجود ہیں ان کو اسی خام صورت میں استعمال کرے۔ ان موجودہ چیزوں میں پتھر سب سے زیادہ نمایاں حیثیت رکھتا تھا۔ اس لیے علامتی طور پر اس دور کو حجری دور کہا گیا۔ اگرچہ ابتدائی تہذیب کے اس دور میں پتھر کے علاوہ دوسری بہت سی چیزیں استعمال میں

‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues

Printed page