Al-Risala · November 2005 · page 483

When the earth is turned into another earth.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۸۳

آئیں جو پہلے سے زمین کی سطح پر دستیاب تھیں۔ مثلاً لکڑی، حیوانات، باقاعدہ زراعت کے بغیر ملنے والی پیداوار، وغیرہ۔

جہاں تک انسان کا تعلق ہے، حجری تہذیب کے زمانے میں بھی انسان وہی تمام فطری اوصاف رکھتا تھا جو وہ آج رکھتا ہے۔ مثلاً بعد کی تحقیقات نے بتایا ہے کہ انسان کے برین میں ایک سوملین بلین بلین پارٹیکل موجود ہیں۔ حجری دور کے انسان کے دماغ میں بھی اتنے ہی پارٹیکل موجود تھے۔ مگر تعلیم و تربیت کی کمی کی بنا پر انسان ابھی اس قابل نہیں بنا تھا کہ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے ان فطری امکانات کو استعمال کر سکے۔

۲۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ زمانہ آیا جس کو زرعی دور کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ دور جس کو ہم نے زرعی تہذیب (Agricultural Civilization) کا نام دیا ہے۔ اس دور میں انسان نے مزید آگے بڑھ کر نیچر میں تصرف کا طریقہ دریافت کیا۔ اس دور میں آب پاشی، زراعت، مویشی کی پرورش، لوہے کا استعمال، پہیے دار گاڑی اور اس قسم کی دوسری چیزیں دریافت کیں۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر زندگی گزار سکے۔

۳۔ اس کے بعد تیسرا دور وہ ہے جس کو صنعتی دور یا صنعتی تہذیب کہا جاتا ہے۔ یہ تیسرا دور اُس وقت شروع ہوا جب کہ انسان نے حیوانی طاقت سے آگے بڑھ کر میکانیکل پاور کو دریافت کیا۔ اب انسان نے پانی کو اسٹیم پاور میں تبدیل کیا اور اسٹیم انجن بنائے ۔ اسی طرح انسان نے پٹرول کو دریافت کیا اور پٹرول سے چلنے والی مشینیں بنائیں۔ اسی طرح اُس نے کمیونیکیشن کے نئے ذرائع دریافت کیے جس نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ولیج بنا دیا۔

صنعتی دور میں انسان نے میکانیکل پاور کو استعمال کر کے بہت سی چیزیں بنائیں ۔ مثلاً تیز رفتار سواری، تیز رفتار خبر رسانی، کاغذ اور چھپائی کے طریقے، نئے اصولوں پر شہری تعمیر، تعلیم و ترقی کا نیا نقطہ نظر، وغیرہ۔ اس طرح حسن اور معنویت کی ایک نئی دنیا وجود میں آئی جس کو صنعتی تہذیب کہا جاتا ہے۔ تہذیب کا چوتھا دور وہ ہے جس کوالون ٹافلر نے سپر انڈسٹریل ایج کا نام دیا ہے۔ الون ٹافلر

‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues

Printed page