Al-Risala · November 2005 · page 484

When the earth is turned into another earth.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۸۴

کے بیان کے مطابق، سپر انڈسٹریل ایج کی خاص صفت یہ ہوگی کہ وہاں مکمل طور پر آٹومیشن (automation) کا رواج ہوگا۔ یعنی الیکٹرانکس کا استعمال اتنا زیادہ بڑھ جائے گا کہ بیشتر کام خود بخود ہونے لگیں گے۔ عام حالات میں انسان کا چاہنا ہی اس مقصد کے لیے کافی ہو جائے گا کہ اس کی تمام ضرورتیں خود بخود معیاری طور پر پوری ہوتی رہیں۔

آٹومیشن کا یہ نظام عین وہی چیز ہے جس کی پیشگی اطلاع جنت کے بارے میں دی گئی ہے۔ قرآن میں جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے: ولكم فيها ماتشتهى انفسكم ولكم فيها ما تدعون (حم السجدہ ۳۱) یعنی تمہارے لیے جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کو تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔

الون ٹا فلر نے مستقبل کے اس دور کو سپر انڈسٹریل ایج کہا ہے۔ وہ گویا جنتی کلچر کا دوسرا نام ہے۔ یہ گویا جنت کی پیشگی خبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ سپر انڈسٹریل ایج مستقبل کے اُس معیاری دور کو علمی اعتبار سے قابل فہم بنا دیتا ہے جس کو اوپر کی تقسیم میں سپر پھول سوئیلائزیشن کا نام دیا گیا ہے۔ بظاہر تہذیب کا یہ چوتھا دور زیر تعمیر ہے۔ یہی چوتھا دور وہ دور ہے جس میں غالباً اُس معیاری دنیا کا ظہور ہوگا جس کو مذہبی اصطلاح میں جنت (paradise) کہا گیا ہے۔ موجودہ تحویلی دور (Transitional Period) گویا وہ حالت ہے جس کو زیر تعمیر جنت (Paradise in the making) کہا جا سکتا ہے۔

جنت گویا تہذیبی سفر کے آخری دور کا نام ہے۔ قانون فطرت کے تحت بننے والی یہ دنیا یقیناً اپنے وقت پر بنے گی۔ یہ دنیا ایک معیاری دنیا ہوگی۔ اس دنیا میں ہر قسم کی محدودیت (limitation) اور ڈس ایڈوانٹیج (disadvantage) کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہاں نہ خوف ہو گا اور نہ حُزن۔ یہاں نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف۔ جنت کی یہ دنیا انسان کے اُن خوابوں کی تعبیر ہوگی جن کو وہ پہلے دن سے دیکھتا رہا ہے۔

اسی کے ساتھ انسان کی ہستی میں نئی ترقیاں ظہور میں آئیں گی۔ یہ انسان کا نقطۂ عروج ہوگا،

‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues

Printed page