When the earth is turned into another earth.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۸۸
سیارہ (cool planet) بنی۔ پھر انسانی آبادی کے بعد یہاں وہ دنیا بنی جس کو زیر تعمیر دنیا (underdeveloped world) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں ایک اور ارتقائی مرحلہ آیا اور صنعتی انقلاب کے بعد وہ دنیا بنی جس کو ترقی یافتہ دنیا (developed world) کہا جاتا ہے۔ یہ چار دور (periods) زمین پر آ چکے ہیں۔ اب خودارتقائی قانون کے مطابق زمین ایک اعلیٰ تر مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ گویا زمین کا آخری ارتقائی مرحلہ ہوگا۔ اس اعتبار سے اس کو معیاری دنیا (perfect world) کہا جا سکتا ہے۔ اس معیاری دنیا میں ہر قسم کی محدودیتیں (limitations) ختم ہو جائیں گی۔ خدائی اہتمام کے تحت یہاں کامل معنوں میں عادلانہ سماج (just order) بنایا جائے گا۔ برے لوگوں کو زمین سے ہٹا دیا جائے گا اور صرف اچھے لوگوں کو یہاں بسنے کی آزادی ہوگی۔ کثافت (pollution) کی تمام صورتیں ختم ہو جائیں گی۔ مصیبتوں (calamities) کا خاتمہ ہو جائے گا۔ بیماری، حادثہ، بڑھاپا اور موت جیسے تمام ڈس ایڈوانٹیج (disadvantage) ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔
موجودہ دنیا میں ہر کام سخت محنت کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں محنت اور کامیابی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جنت میں یہ صورت حال ختم کر دی جائے گی۔ جنت میں ایسی نفیس تبدیلیاں واقع ہوں گی، جس میں ہر کام ایک پُر لطف مشغلے کی حیثیت اختیار کر لے گا (یس ۵۵)۔ جنت میں الگ سے تفریح (entertainment) کی ضرورت نہ ہوگی۔ کیوں کہ خود روزمرہ کا کام ہی تفریح کا ذریعہ بن جائے گا۔
انسان فطرت کے زور پر ہزاروں سال سے جس مطلوب دنیا (desired world) کی نا کام تلاش کر رہا تھا وہ دنیا اپنی کامل صورت میں اس کو مل جائے گی۔ انسان اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے خوشیوں اور راحتوں بھری زندگی کو پالے گا۔ جسمانی محنت (physical labour) کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ صرف خوشگوار ذہنی سرگرمیاں (pleasant intellectual activities) تمام مطلوب نتائج کے حصول کے لیے کافی ہو جائیں گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues