When the earth is turned into another earth.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۸۹
حادثہ، توجیہہ کے لیے کافی نہیں Predictable Universe اپنی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ (God Arises) میں نے ۱۹۶۴ میں لکھی تھی۔ اس کتاب میں دکھایا گیا تھا کہ یہ کائنات بے حد بامعنیٰ کائنات ہے۔ ایسی بامعنیٰ کائنات کسی بنانے والے کے بغیر نہیں بن سکتی۔ اس میں جو باتیں درج تھیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ: ’’۱۱ اگست ۱۹۹۹ء میں ایک سورج گرہن واقع ہوگا جو کارنوال (Cornwall) میں مکمل طور پر دیکھا جاسکے گا:
On August 11, 1999, there will be a Solar eclipse that will be completely visible at Cornwall". (p. 99)
میں نے یہ بات ۱۱ اگست ۱۹۹۹ سے ۳۵ سال پہلے لکھی تھی۔ اس تحریر کے ۳۵ سال بعد جب ۱۱ اگست ۱۹۹۹ء کی تاریخ آئی تو اس پیشگی بیان کے عین مطابق ٹھیک مقرّرہ وقت پر سورج گرہن ہوا۔ اس کے واقع ہونے میں ایک منٹ کا بھی فرق نہیں ہوا۔
میں نے یہ بات بطور خود نہیں لکھی تھی، بلکہ وہ علمائے فلکیات کے حسابات (calculations) کی بنیاد پر لکھی تھی۔ علمائے فلکیات پیشگی طور پر اتنا صحیح اندازہ کرنے میں اس لیے کامیاب ہوئے کہ کائنات انتہائی محکم قوانین پر چل رہی ہے کہ وروس سال گزرنے پر بھی اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوتا۔ اسی دریافت کی بنا پر ایک سائنس داں (سر جیمس جینز) نے اپنی کتاب ’’مسٹیریس یُونیوَرس‘‘ میں لکھا ہے کہ: کائنات کے مطالعے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بنانے والا ایک ریاضیاتی دماغ (Mathmetical Mind) ہے۔ کسی چیز کے بامعنیٰ ہونے کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ قابلِ پیشین گوئی یا قابلِ التنبُّؤ (predictable) ہو۔ یہ صفت موجودہ کائنات میں مکمل طور پر موجود ہے۔ جس کا ایک ثبوت اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues