Al-Risala · February 2005 · page 5

سر چشمہ اعتماد

الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۵

سر چشمہ اعتماد

۲۷ جنوری ۲۰۰۰ کو دہلی میں میرے ساتھ ایک جاں گاہ ذاتی حادثہ پیش آیا۔ میرا ایک نوجوان پوتا سڑک کے ایک حادثہ میں اچانک وفات پاگیا۔ ۲۸ جنوری کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد اوکھلا کی مسجد میں نماز جنازہ ہوئی اور جامعہ کے قبرستان میں اس کو دفن کیا گیا۔ مرحوم خالد (فرزند ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں ڈائرکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اینڈ عربک اسٹڈیز) ایک انتہائی ذہین نوجوان تھا۔ وہ آرکیٹیکچر میں زیر تعلیم تھا۔ ہر لحاظ سے وہ ایک صالح اور لائق نوجوان تھا۔ گویا کہ وہ ایک کلی تھی جس کو ابھی پھول بننا باقی تھا۔ مگر اس کے لئے مقدر تھا کہ وہ پھول بننے سے پہلے ہی موجودہ دنیا سے رخصت ہو جائے۔ جمعہ کی نماز کے بعد جب اس کی میت روانہ ہوئی اور میں نے میت کے پلنگ کو کندھا دیا تو میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ میری زبان سے نکلا: یہ کیسی عجیب بات ہے کہ بوڑھادادانوجوان پوتے کے جنازہ کو کندھا دے رہا ہے۔ مرحوم خالد کی میت جب قبر کے اندر رکھی جا چکی اور حسب قاعدہ میں نے اپنے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اس میں مٹی ڈالتے ہوئے کہا : منھا خلقناکم وفيها نعيدكم و منها نخرجكم تارة أخرى ۔ تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے قبر سے مرحوم نوجوان کی پر مسرت آواز میرے کانوں میں آرہی ہے : دادا آپ رو رہے ہیں، میں تو دیکھیئے، جنت کے باغوں میں کھیل رہا ہوں۔ مرحوم خالد کی وفات کے بعد اگلی رات کو میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ نے خواب دیکھا کہ وہ مجھ سے کہہ رہی ہے : ابا دیکھیئے خالد تو بول رہے ہیں۔

یہ اسلام کی تعلیم کا کرشمہ تھا۔ اسلام میں بتایا گیا ہے کہ معصوم بچے بلا حساب کتاب جنت میں داخل کر دیئے جاتے ہیں۔ مرحوم خالد ابھی معصومیت کی عمر میں تھا، وہ ابھی مسئولیت کی عمر میں نہیں پہنچا تھا۔ مزید یہ کہ مومن کے لئے حادثہ یا ھدم کی موت کو شہادت کی موت کہا گیا ہے ( صحیح مسلم، كتاب الامارة، باب بيان الشهداء) اس بنا پر انشاء اللہ یقینی ہے کہ مرحوم کی موت اس

‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues

Printed page