سر چشمہ اعتماد
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۶
کے لئے جنت میں داخلہ کا دروازہ تھی۔ ہمارے لئے وہ ایک سوگواری کا دن تھا، مگر مرحوم کے لئے وہ جنت میں داخلہ کا دن۔
یہ انسان کے لئے اسلام کا ایک عظیم تحفہ ہے۔ اسلام کی تعلیمات کا یہ نادر پہلو ہے کہ وہ بد ترین مایوسی کے وقت بھی امید کا پیغام دیتا ہے۔ بحران کے سنگین ترین لمحات میں وہ انسان کے لئے سر چشمہ اعتماد بن جاتا ہے۔ وہ کھونے کی حالت میں بھی پانے کا راز بتاتا ہے۔ ایک غیر اسلامی ذہن جہاں محسوس کرتا ہے کہ اس کی زندگی کا سفر محرومیوں کے ساتھ ختم ہو گیا، وہاں اسلام اپنے وفاداروں کو یہ خوش خبری دیتا ہے کہ نہیں، یہ تمہارے لئے خاتمہ نہیں، بلکہ یہ تمہارے لئے نئے بہتر دور کا آغاز ہے۔ یہ موت نہیں بلکہ زندگی ہے۔ مومن کے لئے محرومی کی ہر کہانی یافت کی کہانی ہے۔ زندگی کے طوفان خیز لمحات میں بھی اللہ کا اعتماد اس کے لئے اتھاہ سہارا ہوتا ہے۔
مومن کی ہر رات ایک نئی صبح کا آغاز ہے۔ مومن کے لئے اس کا ایمان ایک اتھاہ سر چشمہ اعتماد ہے۔ مایوسی اور محرومی غیر مومن کے لئے ہو سکتی ہے مگر مومن کے لئے اس دنیا میں نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ محرومی کا سوال۔
یہ بات صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس طرح آئی ہے: عجباً لأمر المؤمن، ان امرہ كله له خير، وليس ذلك لأحد الا للمؤمن، ان اصابته سراء شكر فكان خيراً له، و ان اصابته ضراء صبر فكان خيراً له (مشکاة المصابیح ۱۳۵۸ اب ۳) یعنی مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔ اس کا ہر معاملہ اس کے لئے خیر کا سبب ہوتا ہے۔ اور یہ چیز مومن کے سوا اور کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اس کو خوشحالی پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے۔ اس طرح خوش حالی اس کے لئے خیر بن جاتی ہے اور اگر اس کو نقصان پہنچتا ہے تو وہ صبر کرتا ہے اس طرح نقصان اس کے لئے خیر بن جاتا ہے۔ زندگی نا قابلِ برداشت کو برداشت کرنے کا امتحان ہے، اور اسلام ہمیں وہ طاقت دیتا ہے جس کے ذریعہ ہم اس نا قابل برداشت کو برداشت کر سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues