Al-Risala · December 2005 · page 496

جے پور کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۹۶

جے پور کا سفر

جے پور کے سفر کا فیصلہ میرے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا۔ عین اسی زمانے میں سویڈن میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس کا اہتمام ”الرابطة الاسلامية فی استاكھولم“ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ رابطہ عالم اسلامی دنیا کی سب سے بڑی مسلم تنظیم ہے۔ یہ رابطے کی طرف سے ہونے والی سالانہ کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس میں عام طور پر عرب علماء کو مدعو کیا جاتا ہے۔ اس بار خصوصی طور پر مجھے اس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ یہ کانفرنس ۲۴۔ ۲۶ دسمبر ۲۰۰۴ کو سویڈن کی راجدھانی اسٹاک ہوم میں ہو رہی تھی۔ اس کانفرنس میں خطاب کے لیے مجھے جو موضوع دیا گیا تھا وہ یہ تھا: How to Live in a Multi-religious Society: Islamic Point of View اس سلسلے میں الرابطة الاسلامية (اسٹاک ہوم) کے دفتر (50910900-8-0046:Tel) سے ان کا خط مورخہ ۱۲ دسمبر ۲۰۰۲ محمود دریدی (چئیرمین) کے دستخط سے موصول ہو چکا تھا۔ اس خط میں درج تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں وہاں دو ہفتے قیام کروں۔ ٹیلی فون کے ذریعے مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ عرب شرکاء جو میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے ہیں وہ مجھ سے زیادہ سے زیادہ تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے میرے مددگار کے ساتھ دو ائیر ٹکٹ کا بھی انتظام کر دیا تھا۔ اسٹاک ہوم سے بار بار ٹیلی فون آتے رہے۔ میں ذہنی طور پر اس سفر کے لیے تیار ہو چکا تھا۔ مگر اس دوران ایک اور اصرار سامنے آگیا۔ وہ یہ کہ انٹگرل ہیومنزم (Integral Humanism) کے نام سے قائم شدہ تنظیم کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا جس میں مجھے جے پور (راجستھان) میں منعقد ہونے والے سیمینار میں خصوصی اسپیکر کی حیثیت سے شرکت کی باصرار دعوت دی گئی تھی۔ یہ سیمینار ۱۸۔ ۱۹ دسمبر ۲۰۰۲ کو جے پور میں ہو رہا تھا۔ تاریخوں کی قربت کی وجہ سے میں دونوں میں سے ایک ہی جگہ جا سکتا تھا۔ آخر کار میں نے یہ طے کیا کہ میں سویڈن کا سفر چھوڑ دوں اور جے پور کے سیمینار میں شرکت کروں۔ چنانچہ سویڈن کے دعوت نامے کو ترک کر دینا پڑا۔ میں نے سویڈن کانفرنس کے منتظمین کو متعلقہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page