Al-Risala · December 2005 · page 497

جے پور کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۹۷

موضوع پر اپنے مختصر خیالات کے ذریعے بھیج دیے اور جے پور کے سفر کا فیصلہ کر لیا۔ دہلی سے جے پور کا فاصلہ ۳۱۳ کلومیٹر ہے۔ اس سفر کے لیے میرے سامنے دو انتخاب تھے، ہوائی جہاز سے جانا یا روڈ کے راستے سے بذریعہ کار سفر کرنا۔ میرے ذہن میں ان دو کے سوا کوئی تیسرا انتخاب نہ تھا۔ مگر ۱۶ دسمبر کی رات کو غیر متوقع طور پر ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ میں سفر کر رہا ہوں۔ یہ سفر جدید طرز کی ایک ٹرین میں ہو رہا ہے اور ڈبے کی تقریباً نصف سیٹیں خالی ہیں۔ صبح کو سیمینار کے ایک ذمے دار، مقیم دہلی، مسٹر چاند ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے مشورہ کیا ہے کہ آپ کے لیے اور آپ کے ساتھی کے لیے دہلی۔ جے پور شتابدی ایکسپریس میں ایگزیکٹو کلاس سے ریزرویشن کرایا جائے ۔ یہ آپ کے لیے ہوائی جہاز اور کار دونوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوگا۔ شام کو انھوں نے اس کے مطابق دو ٹکٹ بھیج دیے۔

۱۸ دسمبر کی صبح کو ساڑھے سات بجے جب کہ میں ٹرین میں یہ سفر نامہ لکھ رہا ہوں ۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس سفر کے لیے ٹرین کا انتخاب زیادہ بہتر تھا۔ ہوائی جہاز میں فاگ (fog) کا تقریباً یقینی اندیشہ تھا۔ کار کا سفر بھی اندیشے سے خالی نہ تھا۔ کیونکہ میں کار سک ہوں اور کار کے سفر میں مجھے چکر آنے لگتا ہے۔ تاہم میرے ذہن میں بالکل یہ تصور نہیں تھا کہ مجھے یہ سفر ٹرین سے کرنا چاہیے۔ میرا ذہن اس معاملے میں خالی تھا۔ ۱۶ دسمبر کو ٹرین کے ذریعے سفر کا خواب میرے لیے ایک خدائی رحمت تھا۔ اس خواب میں مجھے غالباً دو بشارتیں دی گئی تھیں ۔ ایک یہ کہ جے پور کا یہ سفر انڈین علاقے میں تھا۔ اس لحاظ سے یہ اس بات کی بشارت تھی کہ سوئیڈن کا سفر چھوڑ کر جے پور کا سفر کرنا میرے لیے ایک صحیح انتخاب ہے۔ دوسرے یہ کہ جے پور کا سفر بذریعہ ٹرین کرنے کا فیصلہ زیادہ درست فیصلہ تھا۔ اس خواب پر میں نے غور کیا تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ آدمی اس طرح جیے کہ اس نے خدا کو اپنا سب سے بڑا کنسرن بنا لیا ہو۔ جو آدمی خدا کو اپنا کنسرن بنالے، خدا بھی اس کو اپنا کنسرن بنالیتا ہے۔ اور پھر ہر موقع پر اس کو صحیح رہنمائی دیتا رہتا ہے۔ کبھی انسپریشن (inspiration) کی صورت میں، اور کبھی خواب کی صورت میں، جس کو

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page