جے پور کا سفر
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۰۵
لوگوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے لیے جے پور شہر کے باہر سے بھی کافی لوگ آئے تھے۔ اس اجتماع کو پر بھات پرکاشن دہلی اور جے پور کے سنیل کوٹھاری جیولر نے اسپانسر (sponsor) کیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد یہ تھا کہ ہندو مسلم تعلقات کو بہتر بنایا جائے اور انڈیا یا اور پاکستان کی دوری کو کم کیا جائے۔ میں نے تقریر میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر علیحدہ قومی شناخت کا نظریہ پیدا ہوا جو روح عصر کے بھی خلاف تھا اور اسلام کے بھی خلاف۔ آپ قرآن کو پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ قرآن بار بار انسان کا ذکر کرتا ہے۔ اس میں پوری انسانیت کو ایڈریس کیا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق، ساری دنیا دار الانسان ہے۔ یہی زندگی کا فطری طریقہ ہے۔ قومی پہچان کو لے کر زندگی کے الگ الگ دائرے بنانا، اسلام کے آفاقی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پھر میں نے کہا کہ یہ بات میرے لیے نئی نہیں ہے۔ اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ لیکن نوجوانی کی عمر سے میرے یہی خیالات رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ تقریباً ۶۵ سال پہلے کی بات ہے۔ میں نے مدرسے میں اسماعیل میرٹھی کی اردو ریڈر پڑھی۔ اس میں دو چڑیوں، بازندہ اور یا زندہ کا قصہ پڑھا۔ اس میں ایک نے دوسرے سے کہا کہ چلو سیر کریں اور دنیا کو دیکھیں ۔ اس نے کہا:
سیر کر دنیا کی غافل! زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تو نو جوانی پھر کہاں یہ میری نو جوانی کا زمانہ تھا۔ مجھے شوق ہوا کہ میں بھی دنیا کی سیر کروں۔ میرے گاؤں (اعظم گڑھ) کے قریب شاہ گنج براڈ گیج کا ایک ریلوے اسٹیشن تھا۔ میں وہاں پہنچا۔ اس زمانے میں انڈیا اور لاہور کے درمیان سفر کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ میں نے ۱۲ روپے کا ٹکٹ لیا اور ایک ایکسپریس ٹرین میں بیٹھ گیا جو شاہ گنج سے سیدھے لاہور جاتی تھی۔
میں لاہور اسٹیشن پر اترا۔ اس وقت لاہور میں کوئی بھی شخص میرا جاننے والا نہ تھا۔ اسٹیشن کے قریب ایک مسجد میں اپنا مختصر سامان رکھا اور لاہور کی ایک سڑک پر پیدل روانہ ہو گیا۔ اس دوران میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی جن کا نام مسٹر قریشی تھا۔ وہ ایک ٹیلر ماسٹر تھے۔ میری کہانی سن کر وہ مجھ کو اپنے گھر لے گیے۔ اگلے دن انھوں نے میری ملاقات لیلا رام سے کروائی۔ لاہور کے مال روڈ پر ان
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues