Al-Risala · December 2005 · page 504

جے پور کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۰۴

کسی کو غیر سمجھنا، یا کسی کو دوست اور کسی کو دشمن سمجھنا، یہ سب صوفی کلچر کے خلاف ہے۔ ہندی اخبار مہا نگر ٹائمز کے نمائندے نے خاص طور پر یہ سوال کیا کہ شریعت میں طلاق کا مسئلہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس معاملے میں دو بڑے گروپ ہیں۔ ایک حنفی گروپ اور دوسرا سلفی گروپ۔ تین طلاق کے معاملے میں، میں سلفی مسلک کو عملاً درست مانتا ہوں۔ اس مسلک کے لوگ ایک بیٹھک میں تین طلاق کو ایک طلاق قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کوئی آدمی طلاق، طلاق، طلاق کہتا ہے تو وہ غصے کی وجہ سے بطور تشدد اس کو بار بار دہراتا ہے۔ لہذا سلفی مسلک والے تین طلاق کو ایک مان کر شوہر سے کہتے ہیں کہ اگر تم نے طلاق کا فیصلہ کر لیا ہے تو صحیح شرعی اصول کے مطابق، تین مہینے میں اس کی تکمیل کرو۔ یہ انٹرویو اسی دن اخبار کے شام کے ایڈیشن میں شائع ہوا۔ ہوٹل کے کمرے میں لوگ مسلسل آتے رہے اور ان سے ملکی اور ملی معاملات پر گفتگو جاری رہی۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میرا مشن مختلف سماجی گروپ کے درمیان میل ملاپ بڑھانا ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ انٹریكشن (interaction) اتنا زیادہ مفید ہے کہ اس کو ہر حال میں اور ہر سطح پر جاری رہنا چاہیے۔

ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ یہ ایک غلط مفروضہ ہے کہ مسلمان اس ملک میں ترقی نہیں کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں مسلمان ہر شعبے میں ترقی کر رہے ہیں۔ یہ فطرت کے قانون کے عین مطابق ہے۔ یہ کہنا کہ مسلمان ترقی کر رہے ہیں، یہ دعویٰ کرنا ہے کہ فطرت کا قانون یہاں معطل ہو گیا ہے۔ فطرت کا قانون خالق نے مقرر کیا ہے، وہ کبھی بدلنے والا نہیں۔ اس لیے مسلمانوں کی ترقی بھی رکنے والی نہیں۔

۱۸ دسمبر کی شام کو جے پور کے برلا آڈیٹوریم میں خطاب تھا۔ اسی کے لیے مجھے یہاں بلایا گیا تھا۔ برلا آڈیٹوریم جے پور کا سب سے بڑا آڈیٹوریم ہے۔ شام کو ۶ بجے جب میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں پہنچا تو وسیع ہال کی تمام سیٹیں بھر چکی تھیں۔ اوپر کی منزل بھی بھری ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ ہال کے باہر کھڑے ہوئے تھے۔ مجمع میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page