Al-Risala · December 2005 · page 507

B. Leela Ram & Sons

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۰۷

پر شہر سے دور جن ممتاز افراد مدعو کیے گئے تھے۔ ان کے ساتھ شام کو خالص راجستھانی کھانا کھایا۔ ان لوگوں سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ملک کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میں ایک آشا وادی آدمی ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک کے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ایک نیا پراس شروع ہو چکا ہے۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ دونوں دو بھائیوں کی طرح مل کر ملک کا مستقبل بنائیں ۔ اس پر ایک صاحب نے شک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ابھی زیادہ اثر دکھائی نہیں دیتا۔ ایک اور صاحب نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک تالا آپ توڑ رہے ہیں اور وہ سویں چوٹ پر ٹوٹے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ 99 چوٹیں بیکار تھیں۔ کیوں کہ 99 چوٹ کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ 100 ویں چوٹ لگنے پر تالا ٹوٹ جائے۔ ابھی جو کچھ ہو رہا ہے وہ سویں چوٹ سے پہلے کا مرحلہ ہے۔ سویں چوٹ کے لیے آپ کو ابھی تھوڑا انتظار کرنا چاہیے۔

ایجوکیشن منسٹر دونانی جی نے بتایا کہ راجستھان میں تعلیم بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ حال میں ہم نے ریاست میں 12 ہزار نئے اسکول کھولے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر گاؤں کے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ایک اسکول موجود ہو۔ انھوں نے کہا کہ پہلے راجستھان، ایجوکیشن میں پورے ملک کے اعتبار سے ۲۲ ویں نمبر پر تھا۔ اب وہ اس اعتبار سے چٹے نمبر پر آگیا ہے۔

19 دسمبر کی صبح کو سو کر اٹھا تو باہر سے تیتر کی آواز سنائی دی۔ ہوٹل کے قریب ایک بہت بڑا پارک ہے جس میں کثرت سے درخت لگے ہوئے ہیں۔ اسی پارک کی طرف سے یہ آواز آ رہی تھی۔ یہ آواز سن کر میں نے سوچا کہ دنیا میں لاکھوں قسم کے پرندے اور حیوانات ہیں۔ مگر ہر ایک کی آواز دوسرے سے الگ ہے۔ آدمی صرف آواز سن کر پہچان سکتا ہے کہ یہ آواز کس پرندے یا کس جانور کی ہے۔ اسی طرح دنیا میں اربوں کی تعداد میں عورت اور مرد بستے ہیں مگر ہر ایک کی آواز دوسرے سے الگ ہے۔ آوازوں کے اس تنوع (diversity) پر سوچتے ہوئے میں نے کہا کہ خالق کی قدرت کا یہ کیسا عجیب نمونہ ہے کہ بے شمار قسم کی زندہ چیزیں زمین پر موجود ہیں۔ مگر ہر ایک کی آواز دوسرے سے الگ ہے۔ یہ تنوع اور اس قسم کے دوسرے واقعات خدا کی اتھاہ قدرت کا حیرت ناک ثبوت ہیں۔ آدمی فطرت

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page