B. Leela Ram & Sons
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۰۸
کے ان مظاہر پر غور کرے تو وہ شدت تأثر سے سجدے میں گر پڑے اور یہ کہے: تبارک الله احسن الخالقین (المؤمنون: ۱۴)
اس ہوٹل کے چاروں طرف کھلی جگہ تھی۔ ہوائی کثافت یہاں تقریباً نہیں کے برابر ہے۔ صبح کی نماز سے فراغت کے بعد میں باہر نکلا اور دیر تک کھلی فضا میں ٹہلتا رہا۔ کھلی فضا اور فطرت کے ماحول میں ٹہلنا میرا محبوب مشغلہ ہے۔ یہ میرے لیے خدا سے نفسیاتی قربت کا ایک لمحہ ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب کہ میں یوپی کے ایک دور افتادہ گاؤں میں رہتا تھا۔ وہاں گاؤں کے کنارے ایک ندی تھی جس کے اوپر غالباً ۱۹۳۶ میں ایک پل بنایا گیا تھا۔ یہ پل جب بنا تو میں نے اس پر یہ شعر کہا تھا:
بحمد الله کہ ایں جسر عظیم الشاں مکمل شد سعی مولوی اقبال احمد خاں مکمل شد اس پل کے چاروں طرف دور تک درختوں اور کھیتوں کے مناظر تھے۔ میں جب گاؤں میں ہوتا تو میں روزانہ صبح اور شام جاکر اس پل کے اوپر بیٹھ جاتا اور دیر تک فطرت کے مناظر کو دیکھتا رہتا۔ ندی میں پانی کا بہنا، سر سبز مناظر، فضا میں اڑنے والی چڑیاں، صبح اور شام کا سورج، آسمان کی وسعت، میں دیر تک ان مناظر میں کھویا رہتا۔ یہ مشاہدہ میرے لیے ایک روحانی خوراک کے ہم معنی ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس روحانی سیر میں ہمیشہ میں اکیلا رہتا تھا۔ گاؤں کا کوئی دوسرا شخص میرے ساتھ نہیں ہوتا تھا۔ یہ پل گویا میرے لیے ایک فطری اسٹیج تھا جہاں سے میں خدا کے تخلیقی کرشموں کو دیکھ سکوں۔ جے پور کے مسٹر اسوتوش اپادھیائے ایک ہونہار طالب علم ہیں۔ انہوں نے ہندی میں ایک کویتا لکھی اور مجھ کو سنایا۔ پھر میرے کہنے پر انہوں نے اس کویتا کی ایک نقل مجھے دی۔ اُن کی یہ کویتا یہاں نقل کی جاتی ہے:
प्रेरणास्त्रोत ताऊजी को ‘बटवारा नहीं’ के विमोचन के अवसर पर सादर समर्पितः है मेरा एक सपना, हो वही ‘अपना हिन्दुस्तान’ जहाँ ज़ात-पात से किसी को न हो वास्ता।
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues