حسن اخلاق کے نمونے
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۷
حسن اخلاق کے نمونے
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ نے فرمایا: بعثت لائمم حسن الاخلاق (مؤطا، کتاب حسن الخلق، مسند احمد ) یعنی میں اس لیے بھیجا گیا ہوں تا کہ میں حسنِ اخلاق کی تکمیل کروں : I was sent to set the examples of high morals. اس حدیث میں تکمیل سے مراد اصول اخلاق کی تکمیل نہیں ہے بلکہ اخلاق کے عملی نمونوں کی تکمیل ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے وہ سب کے سب اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ سیرت کے لوگ تھے۔ ان میں سے کوئی بھی اس اعتبار سے کم یا زیادہ نہ تھا۔ البتہ پیغمبر اسلام اور دوسرے پیغمبروں میں ایک عملی فرق ہے۔ وہ یہ کہ دوسرے پیغمبروں کی زندگی میں ہر قسم کے عملی نمونے نہ ہو سکے۔ مگر پیغمبر اسلام کی زندگی ایک پر از واقعات زندگی (eventful life) تھی۔ اس بنا پر یہ ممکن ہوا کہ آپ کی زندگی میں ہر قسم کے پیغمبرانہ نمونے قائم ہوں۔ ان نمونوں کی بے حد اہمیت ہے۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلام کے ساتھ ایسا ہوا کہ آپ کی بعثت کے وقت کعبہ کی مقدس مسجد میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے مکہ کی ۱۳ سالہ زندگی میں ان بتوں کو نظر انداز کر کے دعوت کا کام کیا۔ اگر پیغمبر اسلام کی زندگی میں ایسا نہ ہوتا تو اس قسم کی دعوتی روش کے لیے بعد کے لوگوں کے پاس کوئی نمونہ موجود نہ ہوتا۔ اسی طرح آپ کو مکہ میں بہت زیادہ ستایا گیا۔ حتی کہ آپ کے مخالفین آپ کے قتل کے درپے ہو گئے۔ مگر آپ نے ٹکراؤ نہیں کیا بلکہ خاموشی کے ساتھ مکہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے۔ یہ روش بھی پیغمبر کے نمونہ کے بغیر لوگوں کے لیے قابل قبول نہ ہوتی۔
اسی طرح ہجرت کے بعد حدیبیہ کے مقام پر آپ کے مخالفین نے وہ صورت حال پیدا کر دی جس کو عزت کا سوال (prestige issue) کہا جاتا ہے۔ مگر آپ نے اس معاملہ کو عزت کا سوال نہیں بنایا بلکہ مخالفین کی شرطوں کو یکطرفہ طور پر مان لیا۔ اس معاملہ میں اگر پیغمبر اسلام کا نمونہ نہ ہو گیا ہوتا تو بعد کا کوئی بھی شخص حدیبیہ روش کی ہمت نہ کرتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues