Money can not make you happy.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۹
موجودہ زمانہ میں مذکورہ صورت حال کی نسبت سے لوگوں کے جو مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں ان میں سے تین ایسے ہیں جو زیادہ اہم ہیں۔ ان تینوں قسم کے ردعمل کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔ ۱۔ اس سلسلہ میں ایک ردعمل یہ ہے کہ جو عورت یا مرد زندگی کی فطری ناخوشگوار یوں سے دوچار ہوتے ہیں وہ برداشت کو کھو دیتے ہیں اور پھر یا تو دل شکستہ ہو کر رہ جاتے ہیں یا خودکشی کر لیتے ہیں۔
مایوسی کی حالت میں اس قسم کے انتہا پسندانہ ردعمل کی دو مثالیں ہندوستانی میڈیا میں حال میں سامنے آئی ہیں۔ انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ ۲۲ اگست ۲۰۰۴ میں مشہور ہندستانی صنعت کار گوتم سنگھانیہ کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گوتم سنگھانیہ ایک ہزار کروڑ روپیہ کے بزنس کے مالک ہیں۔ لیکن بعض حادثات کی وجہ سے وہ اتنا زیادہ دل شکستہ ہیں کہ وہ عوام کے سامنے نہیں آتے۔ وہ زیادہ تر اپنے گھر کے اندر رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دولت کسی بھی شخص کو خوشی نہیں دے سکتی:
Money can not make you happy.
اسی طرح بمبئی کی مشہور ماڈل گرل نفیسہ جوزف اپنے کیریر کے عروج پر تھیں۔ مگر صرف ۲۵ سال کی عمر میں انہوں نے اپنے بیڈ روم کے پنکھے میں لٹک کر خودکشی کر لی (ٹائمس آف انڈیا، ۳۰ جولائی ۲۰۰۲)۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان کے بوائے فرینڈ سے ان کا جھگڑا ہو گیا تھا۔ نفیسہ جوزف کو مس انڈیا منتخب کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کو زندگی کے جو تجربات ہوئے ان کی روشنی میں انہوں نے کہا تھا_ مشہور ہونا گویا بلبلہ میں رہنا ہے جو کسی بھی لمحہ ٹوٹ سکتا ہے: Being famous is like living in a bubble that can burst any moment. دل شکستگی اور خودکشی دونوں ایک ہی نوعیت کی چیزیں ہیں۔ ان دونوں کے درمیان صرف درجہ کا فرق ہے۔ خدا کے نقشہ کے مطابق، یہ دونوں ہی غیر مطلوب ردعمل ہیں۔ یہ مایوسی کی مثالیں ہیں اور مایوسی خدا کے نزدیک حرام ہے۔ زندگی کے امتحان میں وہ با حوصلہ شخص کامیاب پائے گا جو ہر حال
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues