Al-Risala · February 2005 · page 10

Money can not make you happy.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۱۰

میں خدا سے امید قائم رکھے۔ جو ہر صورت حال کو وقتی سمجھ کر خدا سے ابدی کامیابی کا امید وار بنا رہے۔ خدا کا عقیدہ آدمی کو یہی اتھاہ حوصلہ عطا کرتا ہے۔

۲۔ موجودہ زمانہ کی ترقیوں نے ”کبد“ کی صورت حال کو ختم نہیں کیا بلکہ اس میں مزید اضافہ ہو گیا۔ عوام اور خواص دونوں مستقل طور پر ذہنی تناؤ اور دباؤ(stress) میں جینے لگے۔ اس صورت حال نے ایک نئے بزنس کا دروازہ کھول دیا۔ دنیا بھر میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو اپنے آپ کو آرٹ آف ڈی اسٹریسنگ(art of de-stressing) کا ماہر بتاتے ہیں۔ اس موضوع پر ہزاروں کی تعداد میں کتابیں چھپی ہیں اور بڑے بڑے ادارے ہر جگہ کام کر رہے ہیں۔ یہ ڈی اسٹریسنگ کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ مخصوص تکنیک کے ذریعہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ انسان کی سوچ کو معطل کر دیں اور اس طرح انسان کو مصنوعی طور پر ایسا بنا دیں کہ وہ بے فکری کی حالت میں جینے لگے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انسان کی اندرونی شخصیت ایک پر امن شخصیت ہے۔ یہ دراصل انسان کا مائنڈ ہے جو مختلف سوچ کے ذریعہ آدمی کو پریشانی میں مبتلا کرتا ہے۔ یہی ذہنی تناؤ کا اصل سبب ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ذہنی سوچ کو احساس کی دنیا سے الگ کر دیا جائے۔ اس موضوع پر کثرت سے کتابیں اور مضامین چھپے ہیں۔ ایک مضمون وہ ہے جو دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا ۱۵ ستمبر ۲۰۰۲ میں چھپا ہے۔ اس کے لکھنے والے ایکہارٹ ٹال (Eckhart Tolle) ہیں اور اس کا عنوان ہے سوچ کے عمل کو روک دو: Stop thinking یہ بات قابل بحث ہے کہ بے فکری کی یہ مستقل حالت انسان کے اندر پیدا کی جاسکتی ہے یا نہیں۔ تاہم بالفرض اگر وہ ممکن ہو تو وہ صرف اس قیمت پر ہو گی کہ انسان کو انسانی مرتبہ سے گرا کر اس کو حیوانی سطح پر جینے والا بنا دیا جائے۔ یا پھر وہ ایک قسم کا تخدیری عمل (anesthesia) ہے۔ مگر اس قسم کا حل کوئی حل نہیں۔ انسان کے اندر سوچنے کی صلاحیت ہی اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ جو حل انسان سے اس کی یہ اعلیٰ صلاحیت چھین لے، وہ حل نہیں ہے بلکہ وہ موت ہے۔ یہ جیتے جی اپنے آپ کو ذہنی قبرستان میں دفن کر دینا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی کسی تدبیر کو حل کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس مسئلہ کا جو فطری

‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues

Printed page