Al-Risala · December 2005 · page 541

Mahatma Gandhi National Award For Tolerance-2005

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۴۱

اور چست نہ ہو۔ عورت کا پورا بدن لباس سے ڈھکا ہوا ہونا چاہیے۔ البتہ وجہ، کفین اور قدمین کو فقہاء نے اس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ثانیہ مرزا کے لباس کے بارے میں فتوے کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ فتویٰ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے ذاتی مسئلے کے بارے میں شریعت کا مسئلہ دریافت کرے۔ یہ طریقہ بالکل غلط ہے کہ کوئی اور شخص ثانیہ مرزا کے بارے میں استفتاء مرتب کر کے مفتی کے پاس بھیجے ۔ اور مفتی اس کا جواب دے۔ اس قسم کا فتویٰ ، فتویٰ نہیں ہے بلکہ وہ ایک فتنہ ہے۔ اس قسم کے فتووں کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ اسلام بدنام ہو جاتا ہے۔ اس کے سوا اس کا کوئی مثبت فائدہ نہیں۔ ۲۸۔ کمیشن فار انٹر ریلیجس ڈائیلاگ (CBCI) کے زیر اہتمام ۲۵۔ ۲۶ ستمبر ۲۰۰۵ کو نئی دہلی میں ایک آل انڈیا سہ روزہ سیمینار ہوا۔ اس کی کارروائی نئی دہلی کے ڈان باسکو اسکول (Don Bosco) کے ہال میں ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ وہاں انھوں نے کی نوٹ ایڈریس (keynote address) کے طور پر ۲۵ ستمبر کے اجلاس میں ایک تقریر کی ۔ اس کا عنوان یہ تھا:

Christian-Muslim Endeavours for a better society. اس موضوع پر قرآن وحدیث کی روشنی میں انھوں نے آدھ گھنٹہ خطبہ خطاب کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کو باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے مشترک انسانی مقاصد کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ کرسچین کمیونٹی فارمل ایجوکیشن کے میدان میں اچھا کام کر رہی ہے۔ مگر ان فارمل (informal) ایجوکیشن کا میدان ابھی خالی ہے۔ اس میدان میں دونوں متحدہ کوشش سے مفید کام کر سکتے ہیں۔

۲۹۔ انورت مومنٹ کا آشرم نئی دہلی میں واقع ہے۔ اس تنظیم کی طرف سے مہولی میں ۲۶ ستمبر ۲۰۰۵ کو ایک جلسہ ہوا۔ اس کا موضوع ” کمیونل ہارمنی“ تھا۔ اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور کمیونل ہارمنی کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس جلسے میں ہندو مرد اور عورتیں بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ ایک حدیث (لا تغضب) کی روشنی میں بتایا گیا کہ سماج کے اندر ہمیشہ اشتعال انگیزی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اشتعال انگیزی پر صبر کیا جائے۔ اشتعال انگیزی کے واقعات کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ۳۰۔ نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر میں ایک پروگرام ہوا۔ اس میں مختلف سرکاری اسکولوں کے پرنسپل بلائے گئے تھے۔ یہ پروگرام ۲۸ ستمبر ۲۰۰۵ کو ہوا۔ اس میں خطاب کرنے کے لیے صدرِ اسلامی مرکز کو دعوت دی گئی۔ تقریر کا موضوع تھا: ” بیسک ہیمون ویلوز ان اسلام“۔ ۳۰ منٹ تقریر کے لیے اور اس کے بعد ۱۵ منٹ سوال جواب کے لیے۔ تقریر کے بعد حاضرین کو CPS کا انگریزی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ ایک پرنسپل نے سوال کیا کہ اسٹوڈنٹ اگر شرارت کرے تو اس کو کس طرح قابو میں لایا جائے۔ جواب میں بتایا گیا کہ طلبہ میں اس زمانے میں جو انارکی پیدا ہوئی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ ٹیچر لوگ صرف پروفیشنل ٹیچر بن گئے ہیں۔ ان کے دل میں طلبہ کے لیے وہ خیر خواہی نہیں ہوتی جو اپنے بیٹے کے لیے ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page