Mahatma Gandhi National Award For Tolerance-2005
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۴۰
ہے۔ کتاب میں جتنے بھی عنوانات ہیں سب میں مختلف امثال کے ذریعے انسانی نفسیات کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے اور ہر مثال دل میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو جداگانہ صلاحیتیں بخشی ہیں۔ ان ہی صلاحیتوں کی بدولت انسان ناممکن کو ممکن بنا لیتا ہے۔ مایوسی کفر ہے لہٰذا ہمیں زندگی کے روشن پہلو پر نظر رکھنی چاہیے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ کتاب مایوس انسانوں کے لیے اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن ہے۔ (سکندر حیات خاں، کراچی)
۲۴۔ کیرلا کی تنظیم اتحاد الشبان المسلمین (ISM) کے زیر انتظام کالی کٹ میں دوروزہ سیمینار ۱۰۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۵ کو ہوا۔ اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس کے اجلاس میں افتتاحی تقریر کی ۔ ۹ ستمبر کی شام کی تقریر ہائی سن (Hyson) ہال میں ہوئی ۔ اور ۱۰ ستمبر کی صبح کی تقریر کوزی کوڑ جبلی ہال (Kozhikode Jubly Hall) میں ہوئی۔ ان دونوں تقریروں میں اسلام اور مسلمان کا رول قرآن وسنت کی روشنی میں واضح کیا گیا ۔ ان دونوں تقریروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہ دونوں تقریریں ملیالم کے اخبار (۱۱ ستمبر) میں نمایاں طور پر شائع ہوئیں۔
۲۵۔ پرائم منسٹرس ہائی لیول کمیٹی کی میٹنگ نئی دہلی کے جامعہ ہمدرد کے ہال میں ہوئی۔ یہ میٹنگ ۶ ستمبر ۲۰۰۵ کو ہوئی۔ اس کمیٹی کے چیرمین جسٹس راجندر سچر ہیں۔ اس میں انڈیا کے مختلف مقامات کے ممتاز مسلمان مدعو تھے۔ اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ پس ماندہ مسلم ذات کے لوگوں کو کس طرح تعلیم اور سروس میں رزرویشن دلایا جائے ۔ صدرِ اسلامی مرکز نے اپنی تقریر میں کہا کہ رزرویشن کچھ افراد کے لیے وقتی طور پر کچھ فائدہ دے سکتا ہے، مگر مستقل فائدہ اور زیادہ ترقی کے لیے مسلمانوں کو خود محنت کرنا ہوگا۔ زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو تعلیم کا شوق دلایا جائے اور زیادہ سے زیادہ محنت کرکے آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کیا جائے۔ ۲۶۔ مائنارٹی کمیشن کا ایک خصوصی اجتماع ۶ ستمبر ۲۰۰۵ کو نئی دہلی کے لوک نائیک بھون میں ہوا۔ اس میں ہندو اور مسلم دونوں فرقے کے ممتاز افراد شریک ہوئے۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ مختلف فرقوں کے درمیان ہم آہنگی کس طرح لائی جائے ۔ اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ مختلف فرقوں کے درمیان ہم آہنگی کا سب سے بڑا ذریعہ باہمی اعتماد ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کی۔ انھوں نے بتایا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے کا احترام کرے۔ یہ احترام مذہب اور کلچر کے فرق کے باوجود ہونا چاہیے ۔ مائنارٹی کمیشن کے چیرمین مسٹر ترلوکی سنگھ نے اس جلسے کی صدارت کی۔ ۲۷۔ ٹائمس آف انڈیا کے اسسٹنٹ ایڈیٹر (فیچرس) اوی جیت گھوش نے ۲۱ ستمبر ۲۰۰۵ کو صدرِ اسلامی مرکز کا نٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم ڈریس کوڈ سے متعلق تھا۔ اس سلسلے میں انھیں انگریزی کتاب ”حجاب‘‘ پڑھنے کے لیے دی گئی۔ سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ عورتوں کے لیے اسلامی لباس یہ ہے کہ وہ سادہ ہو،
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues