Let no other suffer what I have suffered.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۱۱
حل ہے وہ ڈی اسٹرینگ نہیں ہے بلکہ وہ اسٹرس مینجمنٹ (stress management) ہے۔ ۳۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی میں مصیبت کا شکار رہتے ہیں وہ اکثر اپنے آپ کو اس چیز میں مشغول کر لیتے ہیں جس کو انسانی خدمت یا سوشل سروس کہا جاتا ہے۔ یہ گویا غم غلط کرنے کی ایک تدبیر ہے مگر وہ بھی ’’کبد‘‘ کی صورت حال کا صحیح اور مطلوب رد عمل نہیں۔ سوشل سروس ایک انسانی خدمت ہے اور اس اعتبار سے وہ بلاشبہ ایک قابل تعریف عمل ہے۔ مگر زندگی کے بارے میں خدا کے تخلیقی نقشہ کی اہم نسبت سے دیکھا جائے تو اس کے اندر ایک غیر مطلوب پہلو چھپا ہوا ہے۔ غور کیجئے کہ جو شخص کسی مصیبت کا تجربہ کرتا ہے اور پھر وہ سوشل سروس میں مشغول ہو جاتا ہے، اس کی نفسیات کیا ہوتی ہے۔ اس کی نفسیات ایک جملہ میں یہ ہوتی ہے کہ۔ ۔۔ جو کچھ میں نے بھگتا وہ دوسروں کو نہ بھگتناپڑے:
Let no other suffer what I have suffered.
یہ نفسیات بتاتی ہے کہ آدمی سارے معاملے کو بس دنیا کا معاملہ سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک مصیبت صرف دنیا کی مصیبت ہے اور سب سے بڑا کام یہ ہے کہ دنیا کو بے مصیبت جگہ بنایا جائے۔ حالاں کہ یہ سوچ خدا کے تخلیقی نقشہ کے خلاف ہے، اس لیے وہ یہاں واقعہ بننے والی ہی نہیں۔ جب بھی دنیا میں کسی کو کوئی نا خوشگوار تجربہ ہو تو وہ اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی اس سے صحیح سبق لے ۔ وہ اس حقیقت کو یاد کرے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کو بھی آرام کی زندگی ملنے والی نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کے منفی تجربات سے آخرت کا سبق لے۔ وہ اپنے اندر اس شعور کو جگائے کہ اس محدود دنیا میں مجھے اپنی مطلوب زندگی ملنے والی نہیں۔ مجھے اپنی مطلوب زندگی آخرت کی لا محدود دنیا میں تلاش کرنی چاہیے۔
ایسی حالت میں ناخوشگوار تجربات کا صحیح سبق یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کو یاد کرے، وہ اپنے اندر اس سوچ کو بیدار کرے کہ۔ جو کچھ میں نے آج کی عارضی دنیا میں بھگتا وہ مجھے کل کی ابدی دنیا میں نہ بھگتنا پڑے:
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues