Al-Risala · February 2005 · page 13

خدا اور آخرت

الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۱۳

خدا اور آخرت

تخلیق اپنے آپ میں خالق کا ثبوت ہے۔ کائنات اتنی زیادہ بامعنی واقعہ ہے کہ یہ ناقابل تصور ہے کہ کسی کے بنائے بغیر وہ بن گئی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہمارے لیے چوائس با خدا کائنات اور بے خدا کائنات میں نہیں ہے بلکہ حقیقی انتخاب با خدا کائنات یا غیر موجود کائنات میں ہے۔ کیوں کہ اگر ہم خدا کے وجود کو نہ مانیں تو ہمیں خود کائنات کو غیر موجود ماننا پڑے گا۔ اور ہمارے لیے ایسا چوائس سرے سے ممکن ہی نہیں۔

The choice for us in this regard is not between universe with God or universe without God. This is not the choice. The real choice is between universe with God or no universe at all. If we say that God does not exist then we are also compelled to say that the universe does not exist. But the universe is too obvious a fact that we are not in a position to deny the existence of the universe. So we can not deny the existence of God. بامعنی کائنات سرجیمس جینز نے کہا تھا کہ کائنات کا خالق ایک ریاضیاتی دماغ (mathematical mind) ہے۔ میں کہوں گا کہ ہماری دنیا اتنی زیادہ بامعنی ہے کہ وہ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خالق معنویت کا گہرا شعور رکھتا ہے۔ ایسا خالق ایک ایسی دنیا کی تخلیق نہیں کر سکتا جو اپنے انجام کے اعتبار سے ناقص ہو۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک بامعنی خالق ایک بے معنی کائنات کی تخلیق کرے۔ کائنات اپنی ساری معنویت کے باوجود اپنی موجودہ حالت میں ناقص ہے۔ وہ اپنی تکمیل کے لیے ایک اور دنیا کی طالب ہے۔ یہی وہ دنیا ہے جس کو پیغمبروں نے آخرت کی دنیا کہا ہے۔ یہ آخرت کی دنیا صرف عقیدہ کی بات نہیں۔ وہ پوری طرح ایک علمی واقعہ ہے۔ عالم آخرت

‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues

Printed page