سائنسی ثبوت
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۱۴
کے وجود کو ٹھیک اسی علمی معیار پر ثابت کیا جاسکتا ہے جس معیار پر سائنس میں دوسری تمام چیزوں کو ثابت کیا جاتا ہے۔
سائنسی ثبوت
اس معاملہ میں سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ سائنٹفک پروف کیا ہے۔ موجودہ سائنس کے مطابق، سائنٹفک پروف یہ نہیں ہے کہ کسی چیز کے معاملہ میں تیقن (certainty) کا درجہ حاصل ہو جائے ۔ اس قسم کا ناقابل انکار تیقن کسی بھی چیز کے بارے میں ممکن نہیں۔ جدید سائنسی موقف کے مطابق ، کسی چیز کا علمی طور پر ثابت ہو جانا یہ ہے کہ اس کا قرینہ یا امکان (probability) ثابت ہو جائے۔ جدید سائنس میں جن نظریات کو مسلمہ کے طور پر مانا جاتا ہے ان کو صرف اس لیے مانا جاتا ہے کہ ان کا امکان ثابت ہو گیا نہ یہ کہ مشاہداتی سطح پر ان کے واقع ہونے کا قطعی علم حاصل ہو گیا ہے۔ ایٹم کے اسٹرکچر کو بطور حقیقت ماننا اسی نوعیت کی ایک مثال ہے۔
عالم آخرت کے وجود کو ماننے کے لیے بھی ہمیں اسی مسلمہ سائنٹفک متھڈ کو استعمال کرنا ہوگا۔ اس کے سوا کسی دوسرے متھڈ کا استعمال کرنا اصولی طور پر درست نہیں۔ کیوں کہ علمی طور پر ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ دوسرے معاملات میں جس سائنٹفک متھڈ کو ہم معقول (valid) مانیں، عالم آخرت کے بارے میں ہم اس متھڈ کے استعمال سے انکار کر دیں۔
تین علمی اصول
جیسا کہ معلوم ہے ، اس طرح کے معاملہ میں تین علمی اصول سائنٹفک متھڈ کے تین اجزاء ہیں ۔ وہ اجزاء یہ ہیں ۔ مفروضہ، مشاہدہ، اور تصدیق:
Hypothesis, Observation, Verification
اس سہہ نکاتی فارمولا کو عالم آخرت کے وجود کے معاملہ میں استعمال کیا جائے تو ہم یقینی طور پر ایک موافق قرینہ یا ایک تائیدی امکان تک پہنچ جاتے ہیں۔ اور جیسا کہ عرض کیا گیا، قرینہ یا امکان تک پہنچنے ہی کا دوسرا نام تیقن (certainty) ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues