تضاد کا خاتمہ
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۱۶
سامنے بیٹھے۔ اس کے بعد امریکی دولت مند نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ بلی گرہم سے کہا کہ دیکھو، میں ایک بوڑھا آدمی ہوں۔ زندگی اپنی ساری معنویت کھو چکی ہے۔ میں نامعلوم کی طرف ایک فیصلہ کن چھلانگ لگانے والا ہوں۔ اے نوجوان، کیا تم مجھے امید کی ایک کرن دے سکتے ہو: You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am going to take a fateful leap into the unknown. Young man can you give me a ray of hope. یہ سوال صرف ایک امریکی دولت مند کا سوال نہیں۔ اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر آدمی اس سوال سے دوچار ہوتا ہے، عورت بھی اور مرد بھی۔ اس سوال کا معقول جواب صرف عالم آخرت کے عقیدہ میں ملتا ہے۔ اگر موت کے بعد ایک اور دنیا کو نہ مانا جائے تو یہ عالمگیر سوال ہمیشہ کے لیے بے جواب ہو کر رہ جائے گا۔
تضاد کا خاتمہ
انسان کے بارے میں اس قسم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد پیدائشی طور پر دو متضاد صفات رکھتے ہیں۔ ایک طرف ہر ایک کی بے پناہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی ایک مطلوب دنیا بنائے، ایک ایسی دنیا جو اس کے آئیڈیل کے مطابق ہوا اور جہاں وہ اپنے ’’کل‘‘ (dream world) کے دور حیات کو خوشیوں اور راحتوں کے ساتھ گزار سکے۔ مگر دوسری طرف ہر انسان اس تضاد میں مبتلا ہے کہ وہ بظاہر تمام مادی چیزیں حاصل کر لینے کے باوجود اپنی مطلوب دنیا نہیں پاتا۔ بورڈم، نقصان، بیماری، ایکسیڈینٹ، بوڑھاپا اور آخر میں سو سال سے بھی کم مدت میں موت، یہی اس دنیا میں انسان کی کہانی ہے۔
یہی معاملہ ہر عورت اور ہر مرد کا ہے۔ ہر ایک اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں ایک آئیڈیل کا تصور بسا ہوا ہوتا ہے۔ مگر ہر ایک اپنی حسین تمناؤں کو لیے ہوئے مر جاتا ہے، قبل اس کے کہ اس نے اپنی مطلوب دنیا کو عملاً پایا ہو۔
یہاں دوبارہ ایک مشاہدہ سامنے آتا ہے۔ یہ مشاہدہ کی دنیا میں عالمگیر طور پر زوجین (pairs)
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues