تضاد کا خاتمہ
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۱۷
کا اصول قائم ہے۔ یہاں ہر چیز جوڑے جوڑے کی صورت میں ہے۔ ہر چیز دو کے ملنے سے مکمل ہوتی ہے۔ ایٹم میں نیگیٹیو پارٹیکل اور پازیٹیو پارٹیکل، ستاروں کی دنیا میں جوڑا ستارے (pair stars)، نباتات کی دنیا میں نر اور مادہ، حیوانات کی دنیا میں مذکر اور مونث، انسان کی دنیا میں مرد اور عورت۔ اس عالمگیر فطری اصول کو زوجین کا اصول (pair principle) کہا جا سکتا ہے۔ یہ اصول بتاتا ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔ اسی عالمگیر اصول میں مذکورہ سوال کا جواب ہے۔ اس کے مطابق ، ساری دنیا میں ایک جوڑ ادنیا (pair world) ہے۔ موجودہ دنیا کے ساتھ ایک اور دنیا موجود ہے اور اسی دنیا کے ملنے سے ہی موجودہ دنیا اپنے وجود کو مکمل کرتی ہے۔ آغاز کی تکمیل اب مذکورہ مشاہدہ کی روشنی میں دیکھئے تو اس بات کی واضح تصدیق ہو جاتی ہے کہ عالم آخرت کا نظریہ درست ہے۔ عالم آخرت وہ جوڑادنیا ہے جس کے ملنے سے موجودہ دنیا اپنے وجود کی تکمیل کرتی ہے۔ اس جوڑادنیا سے ملے بغیر ہماری موجودہ دنیا اسی طرح نامکمل ہو جاتی ہے جس طرح اس کائنات کی دوسری تمام چیزیں اپنے جوڑے کے بغیر نامکمل رہتی ہیں۔
ہماری دنیا کا دو دنیاؤں کی صورت میں ہونا بہت با معنی ہے۔ اس دوسری دنیا کو ماننے کے بعد انسانی وجود ایک مکمل وجود بن جاتا ہے۔ اب ہر چیز اپنی معنویت پالیتی ہے۔ اب ہر چیز اپنے خانہ میں فٹ بیٹھ جاتی ہے:
Everything falls into place. درست فریم ورک یہ تصور ہم کو وہ فریم ورک دے دیتا ہے جس میں زندگی اور کائنات کی ہر چیز اپنی اطمینان بخش تو جیہہ پا سکے۔ اس تصور سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جنت اور جہنم کیا ہے۔ جنت گویا سنجیدہ اور حق پرست لوگوں کی آرام گاہ ہے اور جہنم گویا سرکش اور باطل پرستوں کا عذاب خانہ۔ اس کے مطابق جو تصور بنتی ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو عالم امتحان (testing ground)
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues