Al-Risala · February 2005 · page 23

فطرت کا حصہ

الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۲۳

دنیا اور آخرت

بیج ڈالنے کے دن جو کسان فصل کاٹنا چاہے، وہ بیج کو بھی کھوئے گا اور فصل سے بھی محروم رہے گا۔ یہی معاملہ دنیا اور آخرت کا ہے۔ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور آخرت اس کا انعام پانے کی جگہ۔ جو شخص دنیا ہی میں انعام حاصل کرنا چاہے تو وہ اس قیمت پر ہوگا کہ وہ مطلوب عمل انجام نہ دے سکے گا۔ وہ آخرت کی تعمیر کے واحد موقع کو کھو دے گا۔

جو چیز جنت میں ملنے والی ہے اس کو آدمی موجودہ دنیا میں پانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دونوں ہی کو کھو دیتا ہے۔ عقل مند انسان وہ ہے جو دنیا کے ذریعہ آخرت کو خریدے، نہ کہ دنیا میں پھنس کر اپنے آپ کو آخرت سے محروم کرلے۔

آپ سفر کے دوران وہ سکون حاصل کرنا چاہیں جو صرف گھر پر کسی آدمی کو ملتا ہے تو آپ کبھی اپنی اس طلب میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اسی مثال سے دنیا اور آخرت کے معاملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ دنیا کو خدا نے عمل کرنے کی جگہ بنایا ہے اور آخرت کو عمل کا انجام پانے کی جگہ۔ یاد نیا سفر کا راستہ ہے اور آخرت اس کی منزل۔

اب اگر آپ چاہیں کہ دنیا ہی میں اپنا انجام پالیں تو آپ کے عمل کی منصوبہ بندی بالکل غلط ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر آپ راستہ میں منزل والا سکون حاصل کرنا چاہیں تو آپ اپنے راستہ کو کھونا کر لیں گے۔ عقل مند آدمی وہ ہے جو دنیا اور آخرت کے اس فرق کو سمجھے۔ وہ موت سے پہلے اس چیز کی خواہش نہ کرے جو صرف موت کے بعد والی زندگی میں کسی کو مل سکتی ہے۔

آدمی کو چاہئے کہ وہ حقیقت پسند بنے۔ وہ خواہشوں کے پیچھے نہ دوڑے ۔ کیوں کہ خواہشیں آدمی کو گڑھے کے سوا کسی اور منزل پر پہنچانے والی نہیں۔

ہر آدمی اپنے سینہ میں خواہشات کا ایک سمندر لئے ہوئے ہے۔ یہ خواہشات بجائے خود غلط نہیں۔ مگر ان خواہشات کی تکمیل کا مقام آخرت ہے نہ کہ موجودہ دنیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues

Printed page